Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

دینے ہی سے انکار کر دیں۔ اسی طرح اگر عجیب کے نزدیک سائل کا مطالعہ ناقص ہے یا اس کا احساس یہ ہے کہ سائل اپنے آپ کو اونچے مقام پر فائز سمجھنے کے وہم میں مبتلا ہو گیا ہے، تو یہ بھی عجیب کا محض دعویٰ ہے اور دعوے کے اظہار سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی دلیل کو پیش کرے۔ اسی طرح جواب دینے سے پہلے یہ فیصلہ کر لینا کہ سائل اس مقام سے گزر چکا ہے جہاں اس کو سمجھانے کی کوشش مفید ہو سکتی تھی، اپنے بارے میں مخصوص ذریعہ علم کا حامل ہونے کا اعلان تو ضرور ہے، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سائل کے سوال کو نا قابل جواب قرار دینے میں بھی وہ حق بجانب ہے۔ اسی طرح یہ بات کہ سائل جس سے سوال کر رہا ہے اس کی عظمت کا وہ قائل نہیں ہے، یہ بھی عجیب کا صرف اپنا ایک وجدان ہے اور وجدان کے اظہار سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اصل مسئلہ کے بارے میں اپنے علم کا اظہار کرے ۔ پھر آخر میں وعدہ کے با وجود محض اس بنا پر جواب دینے سے انکار کر دینا کہ ہندوستان کے بعض اصحاب جو مجھ سے اس مسئلہ پر بحث کر چکے ہیں انھوں نے مشورہ دیا کہ مولانا مودودی اس کام میں اپنا وقت صرف نہ کریں، یہ بھی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ اگر کسی نے مولانا کی خیر خواہی میں ان کو ایسا خط لکھ دیا تھا تو میری خیر خواہی کے اعتبار سے مولانا کا فرض تھا کہ وہ مجھ سے پوچھتے کہ تمہارے بارے میں مجھے اس قسم کی خبریں پہنچی ہیں۔ اس وقت میں انھیں بتاتا کہ جن حضرات نے مجھ سے اس مسئلہ پر بحث کی ہے ان کی ”بحث“ کی حقیقت کیا ہے ۔ بہر حال اب وہ اس بحث کی پوری روداد اس خط و کتابت میں دیکھ سکتے ہیں جو اس کتاب کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے۔ اس سے وہ خود اندازہ کر لیں گے کہ بحث کرنے والوں نے اصل مسئلہ پر بحث کرنے کے بجائے صرف غیر متعلق مسائل چھیڑے ہیں۔ اور افسوس کہ انھوں نے خود مولانا مودودی کو بھی اسی قسم کی غیر علمی اور غیر منطقی روش میں مبتلا کر دیا۔ پھر ان سب سے بڑھ کر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میرے چھیڑے ہوئے مسائل پر مجھ سے خط و کتابت کرنے کو مولانا مودودی نے تحریری مناظرہ بازی “ قرار دیا ہے۔ یہ میرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page