ضمیمہ
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
نزدیک ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص معقول الفاظ کے ساتھ اپنا ایک مطالبہ لے کر کسی کے یہاں جائے ۔ اور وہ اس کے اصل مطالبہ پر گفتگو کرنے کے بجائے اس کو محض ایک گالی دے کر اسے لوٹادے۔ میں نے مولانا کو لکھا تھا کہ میرا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی تشریح دین کے مطابق اسلامی مشن کا جو تصور سامنے آتا ہے، وہ مجھے واقعی طور پر قرآن وحدیث سے ثابت ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس سلسلے میں جن آیات واحادیث سے استدلال کیا جاتا ہے، ان پر گفتگو کر کے بتایا کہ کیوں کر میرے نزدیک یہ آیات و احادیث اس مخصوص تصور کا ماخذ نہیں بنتیں۔ کیا مناظرہ بازی اسی کا نام ہے۔ اگر یہ مناظرہ بازی ہے تو پھر تنقید کی وہ کون سی قسم ہے جس کو مناظرہ بازی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔ مجھے حیرت ہے کہ مولانا میرے بارے میں اس قسم کی غیر متعلق باتیں ثابت کرنے کی تو پیہم کوشش کرتے رہے۔ مگر وہ اصل مسئلہ جس کے لیے میں نے ان سے رجوع کیا تھا، اس کے بارے میں مکمل طور پر خاموش رہے۔ انھوں نے میری دوسری غلطیاں اور کمزوریاں ثابت کرنے کی کوشش تو بہت کی ، حتیٰ کہ اس معاملہ میں سنی سنائی باتوں پر اعتماد کرنے میں بھی انھوں نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔ مگر جس مسئلہ میں میرے خیالات تحریری طور پر ان کے سامنے موجود تھے اور جس کے متعلق میں اصلًا ان کا جواب معلوم کرنا چاہتا تھا، ان کے بارے میں ایک لفظ ارشاد نہیں فرمایا۔ میری جس حیثیت کے بارے میں خود میری اپنی پیش کردہ معلومات کی بنا پر وہ اس پوزیشن میں تھے کہ میرے بارے میں ایک فیصلہ دے سکیں ، اس کے متعلق تو میرے اصرار و الحاح کے باوجود انھوں نے سرے سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ البتہ میری دوسری حیثیت جس کے بارے میں ان کے پاس بے دلیل قیاس اور بالواسطہ روایت کے سوا کچھ نہیں تھا ، ان کے متعلق پوری قطعییت کے ساتھ اپنی رائے کا اعلان کر دیا ۔ اپنی اس غیر منطقی روش کی کوئی دل فریب لفظی توجیہ کر کے ممکن ہے وہ سادہ لوح عوام کے سامنے بری الذمہ ہو جائیں۔ مگر مجھے نہیں معلوم کہ قیامت کے روز وہ خدا کے سامنے کس طرح بری الذمہ ہو سکیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader