Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

نوعیت مسئلہ اسلام کی تشریح و توجیہ کے لیے جو علوم پیدا ہوئے ہیں، ان میں سے ایک علم وہ ہے جس کو حکمت دین یا اسرار شریعت کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب دینی تعلیمات کی حکمتوں کو جاننا اور اس کے اندر چھپی ہوئی مصلحتوں کو معلوم کرنا ہے۔ مثلاً جب آپ حج کے فرائض وارکان کا تعین کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ حج کیسے کیسے کرنا چاہیے تو یہ فقہ ہوتی ہے۔ مگر جب آپ حج کے فائدے بتائیں اور یہ کہیں کہ: ”حج خدا پرستی کے محور پر اہل ایمان کی ایک عالمگیر برادری بناتا ہے۔“ تو اسی کا نام حکمت دین ہے۔ جس طرح دوسرے تمام علوم کا آغاز دورِ اول سے ہوا اور بعد کو ان میں فنی تفصیلات پیدا ہوئیں اسی طرح حکمت دین بھی شروع سے امت کے افراد کا موضوع بحث رہا ہے۔ اس سلسلے میں بہت کافی معلومات ہمارے وسیع لٹریچر کے اندر بکھری ہوئی ہیں۔ لیکن اس موضوع پر مستقل تصنیفات بہت کم ہیں۔ دیگر اسلامی علوم کا حال تو یہ ہے کہ ایک ایک فن پر درجنوں بلکہ سینکڑوں مستقل تصنیفات کا نام لیا جا سکتا ہے مگر حکمت دین پر مستقل کتابیں چند ہی لکھی گئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ نمایاں اور مشہور شاہ ولی اللہ دہلوی کی حجتۃ اللہ البالغہ ہے۔ یہ بات حکمت دین کے ایک پہلو کے بارے میں ہے۔ دوسرے اعتبار سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس موضوع پر مستقل کام اور بھی کم ہوا ہے۔ حکمت دین کا ایک مطلب یہ ہے کہ مختلف اجزائے دین کے الگ الگ مصالح معلوم کیے جائیں۔ مثلاً نماز کی حکمت، روزے کی حکمت، جہاد کی حکمت وغیرہ۔ حکمت دین کے موضوع پر اب تک جو کام ہوا ہے، وہ زیادہ تر اسی پہلو سے متعلق ہے۔ اس میں دین کے مختلف پہلوؤں کو علیحدہ علیحدہ عنوانات کے تحت لے کر ان کی منفرد حکمتوں کو بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام اجزائے دین کی مجموعی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page