ضمیمہ
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمت معلوم کی جائے، دین کے مختلف پہلوؤں کو باہم مربوط کر کے پیش کیا جائے۔ دین کی ایسی تشریح کی جائے جس میں وہ مجموعی حکمت نظر آئے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے اس کے مختلف اجزاء کو یکجا کیا ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے کام کی بہترین تعبیر میرے نزدیک یہی ہے کہ انھوں نے حکمت دین کے اس دوسرے پہلو پر کام کرنے کی کوشش کی اور اپنی حد تک ایک ایسی تشریح بھی ڈھونڈ نکالی جس میں دین ایک ہم آہنگ کل (inter-related whole) کی شکل میں نظر آنے لگا۔ مولانا مودودی کا کام اپنے خارجی استعمال کے لحاظ سے اسلام کی دعوت ہے اور اپنی علمی نوعیت کے اعتبار سے دین کی حکیمانہ توجیہہ ہے۔ فی الحقیقت ان کے کام کی یہی دوسری خصوصیت ہے جس نے موجودہ دور کے بہت سے لوگوں کے لیے ان کے خیالات میں کشش پیدا کر دی اور انھوں نے لپک کر اسے قبول کر لیا۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ ہر مجموعہ لازماً حقیقت نہیں ہوتا۔ متفرق اجزاء کا کسی با معنی مجموعہ میں مرتب ہو جانا، بے شک اس بات کا ایک قرینہ ہے کہ یہ اجزاء اسی کلی حقیقت کے متفرق حصے تھے۔ مگر عین اسی کے ساتھ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ جو ترتیب قائم کی گئی ہے، وہ حقیقی نہ ہو۔ اجزاء بجائے خود تو سب کے سب حقیقی ہوں، مگر جس مجموعی شکل میں انھیں اکٹھا کیا گیا ہے، وہ ایک شخص کی محض قوتِ تخئیل کا کرشمہ ہو۔ اگر کسی علاقہ میں قدیم جانوروں کی پتھرائی ہوئی ہڈیاں (fossil bones) برآمد ہوں تو یہ بالکل ممکن ہے کہ آپ اس ڈھیر سے کچھ ہڈیوں کو لیں اور ایک مخصوص جاندار کی شکل میں انھیں جوڑ کر کھڑا کر دیں۔ اس طرح بظاہر ایک مجموعی ترتیب واقع ہو گئی۔ جن لوگوں نے حیاتیاتی ارتقاء کے نظریہ کا مطالعہ کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ اسی قسم کی فرضی ترتیبوں سے دھوکا کھا کر بہت سے ارتقاء پسند علما نے اس نظریہ کو مفروضہ کے مقام سے اٹھا کر حقیقت کا درجہ دے دیا ہے۔ مگر بار بار کے تجربہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس طرح کی تشکیل و ترتیب لازماً حقیقت نہیں ہوتی۔ اکثر ایسا ہوتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader