Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ آدمی اپنی قوت وہمہم سے کام لے کر مختلف غیر متعلق ٹکڑوں کو ایک مخصوص شکل میں جوڑ دیتا ہے۔ مگر اس شکل کا واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یعنی اجزاء کسی اور ہئیت وصورت کے ہوتے ہیں اور ان کو جوڑ کر کوئی اور ہئیت وصورت بنا لی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر پلٹ ڈاون مین (Piltdown Man) جس کے متعلق تقریباً آدھی صدی تک دنیا کے سائنس داں اس ”یقین“ میں مبتلا رہے کہ یہ ماقبل تاریخ کا سب سے قدیم انسانی ڈھانچہ ہے جس کا ہمیں علم ہوا ہے۔ مگر بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ محض ایک جعلی ڈھانچہ تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ زیر بحث فکر کی غلطی یہ ہے کہ اس نے دین کی جو تصویر بنائی، اس میں اجزاء تو سب وہی استعمال کیے جو کسی نہ کسی اعتبار سے دین کے اجزاء تھے۔ مگر جس کلی تصور کے تحت انھیں ایک مجموعہ میں ترتیب دیا گیا وہ تصور صحیح نہ تھا۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی مکان کو توڑ کر اس کی اینٹ اور گارے سے دوسری وضع کا مکان بنا ڈالا جائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس کی تصویر، اجزاء کے اعتبار سے دینی ہونے کے باوجود، اپنی مجموعی ہئیت میں دین کے مطابق نہیں رہی۔ بظاہر پورے دین کا حامل ہونے کے باوجود وہ اپنی مخصوص ترتیب میں پورے دین سے ٹکرا گئی۔ اس تعبیر نے دین کے مختلف اجزاء کے درمیان جو حکمت جامع تلاش کی اور جس کے تحت تمام دینی تعلیمات واحکام کو مربوط کرنے کی کوشش کی وہ ”نظام“ کا تصور تھا۔ یعنی اسلام، زندگی کا ایک مکمل اور مفصل نظام ہے اور اسی لحاظ سے اس کے تمام اجزاء باہم ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔ اس فکر کے ایک مبلغ کے الفاظ میں—”اسلام ایک نظام حیات ہے جو زندگی کے سارے انفرادی واجتماعی اور مابعدالطبیعی مسائل کو ایک وحدت میں پروتا اور سب کو عقل وفطرت کے مطابق حل کرتا ہے۔“ دین کا ایک نظام ہونا بذات خود غلط نہیں ہے۔ مگر جب نظام کے تصور کو یہ حیثیت دی جائے کہ یہی وہ سبب جامع ہے جو اس کے متفرق اجزاء کو ایک کل میں سموتا ہے، تو یقیناً وہ غلط ہو جاتا ہے اور یہی اس فکر کی اصل غلطی ہے۔ یہ فکر دین کا مطالعہ اس حیثیت سے کرتی ہے کہ وہ زندگی کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page