Urdu book · تعبیر کی غلطی

تمہید

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں جو اس فکر کو ابھی تک قبول نہ کر سکے۔ دین کا متوارث تصور جو سلف سے چلا آ رہا ہے اور جو دینی درس گاہوں اور دینی کتابوں کے ذریعہ انھیں ملا ہے، اس کو ذہن میں رکھ کر جب وہ مولانا مودودی کے لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ان کا متوارث فہم دین اس لٹریچر کو قبول کرنے سے ابا کرتا ہے، وہ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں، مگر یہ مخالفت عام طور پر محض ایک مجہول احساس کے تحت ہوتی ہے۔ وہ اپنے متوارث تصور کو اس تشریح سے ہم آہنگ نہیں پاتے، اس لیے وہ اس کو نہیں مانتے۔ مگر اس عدم ہم آہنگی کی وجہ کیا ہے، اس کو وہ ابھی تک صحیح طور پر متعین نہ کر سکے۔ ان میں سے جن بزرگوں نے اس اختلاف کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے عموماً اس مسئلہ پر زیادہ وقت صرف نہیں کیا۔ اسی وجہ سے وہ غلطی کا سرا پانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ دین میں بگاڑ کی جتنی مثالیں اب تک تاریخ میں پیش آئی ہیں، وہ عموماً وہ تھیں جن میں دین کے اندر کمی بیشی کی گئی تھی۔ ہمارے ان علما نے غیر شعوری طور پر سمجھا کہ زیر بحث فکر جس کو قبول کرنے سے ان کا دینی ذوق ابا کر رہا ہے، وہ بھی اسی قسم کی ایک غلطی ہوگی۔ حالانکہ یہ بگاڑ پچھلے تمام بگاڑوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس فکر کی غلطی دراصل یہ نہیں ہے کہ اس نے دین میں کوئی کمی یا زیادتی کی ہے۔ اس کی ساری غلطی یہ ہے کہ وہ مجموعہ دین کے مختلف اجزاء کو ان کے صحیح مقام پر رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ مثلاً دین کے کچھ ایسے تقاضے جو خارجی حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں، ان کو اس نے حقیقت دین کی نسبت سے مطلوب قرار دے دیا (ملاحظہ ہو زیر نظر کتاب کا عنوان "تصور دین")۔ یہ ایک نہایت لطیف اور خفی انحراف ہے، نہ کہ جلی انحراف۔ مگر ہمارے علما نے اس فرق کو نہیں سمجھا، اور زیر بحث فکر میں اسی قسم کی غلطیاں ڈھونڈنی شروع کر دیں جیسی غلطیاں اس سے پہلے گمراہ فرقوں میں پائی جاتی رہی ہیں۔ اب چونکہ واقعہ میں ایسا نہیں تھا، اس لیے ان کی طرف سے ایسے اعتراضات کیے گئے جو نہایت کمزور اور بے بنیاد تھے۔ انہوں نے ایسی ایسی باتیں کہیں جو زیر بحث فکر پر چسپاں نہیں ہوتی تھیں۔ اس طرح ان کی حالت ایسے وکیل کی سی ہو گئی ہے جس کا مقدمہ تو بہت مضبوط ہو، مگر واقعہ اچھی طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page