Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک ”نظام“ ہے۔ اس کے نزدیک وہ مجموعی تخیل جس کے تحت پورے دین کو سمجھا جا سکتا ہے، وہ اس کا نظام ہونا ہے۔ حالانکہ دین کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ خدا اور بندے کے درمیان تعلق کا عنوان ہے۔ دین محض ایک قانونی نظام نہیں ہے جیسے دوسرے نظام ہوا کرتے ہیں۔ بلکہ وہ خدا سے نفسیاتی تعلق کا ایک ظہور ہے۔ عمل میں آنے کے بعد بیشک دین میں وہ ساری چیزیں شامل ہو جاتی ہیں جن کے مجموعے کو ”نظام حیات“ کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مگر دین کا نظام ہونا حقیقت دین کا ایک مظہر ہے۔ یہ اس کی اضافی حیثیت ہے، نہ کہ اس کی اصل حیثیت۔ دین کا مطالعہ نظام کے عنوان کے تحت کرنے میں اسی قسم کی غلطی کی گئی ہے جو غلطی ان لوگوں نے کی جنھوں نے ”انسان“ کا مطالعہ کرنے کے لیے یہ نظریہ قائم کیا کہ: Man is a social animal یعنی انسان ایک تمدنی حیوان ہے۔ بے شک عملی تفصیل میں آنے کے بعد انسان ایک اعتبار سے تمدنی حیوان یا سماجی مخلوق بن جاتا ہے۔ مگر تمدنی اور سماجی حیثیت انسان کی اصل حیثیت نہیں ہے، وہ اس کی اصل حیثیت کا ایک مظہر ہے۔ انسان کی اصل حیثیت اس کا ذی روح اور ذی ارادہ ہونا ہے اور بقیہ تمام حیثیتیں خواہ وہ تمدنی حیثیت ہو یا کوئی اور حیثیت، اسی اصل سے مختلف نسبتوں کے تحت نکلتی ہیں۔ یہ کہنا کہ ”انسان ایک تمدنی ہستی ہے“ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ انسان کی مختلف حیثیتوں کو جس جامع تخیل کے تحت ہم سمجھ سکتے ہیں، وہ اس کا متمدن ہونا ہے۔ اس تشریح کے بالکل قدرتی نتیجے کے طور پر انسان کی تمام حیثیتیں اس کی تمدنی حیثیت سے متفرع ہوں گی اور اسی کا جزءِ قرار پائیں گی۔ اس تشریح کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان کی دوسری تمام حیثیتیں اس کے ساتھ اس لیے شامل ہیں کہ اس کی تمدنی حیثیت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں۔ مثلاً انسان کا تمدنی ہستی ہونا تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایک جسم اور روح کی صورت میں ہو، اس لیے انسان جسم اور روح رکھتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان کی ایک سیاست ہو، اس لیے وہ اپنا ایک سیاسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page