ضمیمہ
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈھانچہ رکھتا ہے ۔ اس کا تقاضا ہے کہ وہ کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کی توجیہ کرے ، اس لیے اس کا ایک فلسفہ وجود میں آیا ہے، وغیرہ ۔ اس تشریح میں بظاہر انسان کی پوری زندگی آگئی۔ اور اس لحاظ سے یہ انسان کی مکمل تشریح معلوم ہوتی ہے ۔ مگر غور کیجیے تو اس میں متعدد غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔ 1 ۔ اول یہ کہ اس تشریح کے مطابق انسان کی اصل حیثیت اس کی تمدنی حیثیت قرار پاتی ہے اور بقیہ چیزوں کو اسی اصل کے واسطہ سے اس کے اندر جگہ ملتی ہے ۔ جب کہ انسان کی اصل حیثیت اس کا ذی روح ہونا ہے ۔ اور دوسری تمام حیثیتیں اسی روح کے مظاہر ہیں یا اس کے تقاضے اور نتیجے ۔ 2۔ دوسری بات یہ کہ نسبت بدل جانے کی وجہ سے انسانیت کا مطلوب بدل گیا۔ اب وہ چیزیں مطلوب اصلی قرار پائیں جو تمدن کی نسبت سے مطلوب ہوں ۔ جب کہ حقیقۃً مطلوب اصلی اس چیز کو بننا چاہیے جو اس کے روحانی وجود کی نسبت سے مطلوب ہو۔ 3۔ یہی نہیں بلکہ عملی اعتبار سے دیکھیے تو اس میں سب کچھ غائب ہو گیا۔ انسان کی ساری سرگرمیوں اور اس کے تمام مظاہر کا اصل منبع اس کی روح ہے۔ اس لیے انسانی زندگی میں کوئی نتیجہ اسی وقت نکل سکتا ہے جب کہ اس کی جڑیں اس کی روح کے اندر پیوست ہوں ؛ جس تصور نے انسان کے کسی خارجی مظہر کو اس کا اصل وجود سمجھ کر وہاں اپنا بیچ بویا ہو، اس سے کسی بھی قسم کے حاصل کی امید نہیں کی جاسکتی۔ یہی تمام خرابیاں اسلام کی مذکورہ بالا تشریح میں بھی پیدا ہو گئیں ۔ ’’ نظام‘‘ کے تصور کو دین کی حکمت جامع قرار دینے کی وجہ سے یہی حیثیت اسلام کی وہ مرکزی حیثیت قرار پائی جس سے اس کی دوسری حیثیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس جامع توجیہ میں دین کے تمام اجزاء موجود ہونے کے باوجود سب کے سب ، اپنے صحیح مقام سے ہٹ گئے ۔ اب دین کی ساری چیزیں بس نظام کے اجزاء ہونے کی حیثیت سے مطلوب قرار پائیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader