Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

عقائد و ایمانیات اس لحاظ سے اس کا جز بنے کہ وہ اس نظام حیات کی ” فکری بنیادیں“ ہیں۔ عبادات اس لحاظ سے اس کا جز ء نظر آئے کہ وہ اس نظام کے کارکن یا مطلوب افراد تیار کرنے کے لیے ”ٹریننگ کورس“ ہیں۔ باہمی سلوک سے متعلق تعلیمات اس لحاظ سے اس کا جز ء معلوم ہوئے کہ وہ اس نظام سے وابستہ اشخاص کا ” اخلاقی ضابطہ“ ہیں۔ حدود و قوانین اس لحاظ سے اس کا جز ء ثابت ہوئے کہ وہ اس نظام کی ” تمدنی بنیاد“ ہیں۔ خلافت و امارت اس لحاظ سے اس کا جز ء دکھائی دیے کہ اس کے ذریعہ سے یہ نظام ایک قاہرانہ ادارہ کی صورت اختیار کرتا ہے اور اپنے آپ کو بزور نافذ کرتا ہے، وغیرہ۔ اس تشریح کا بالکل قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ مطلوب اصلی بدل گیا۔ اس تعبیر کے خانے میں آکر دین بحیثیت ” نظام “ تو بہت ابھر آیا، مگر اس کا تعبدی پہلو کمزور پڑ گیا۔ دین کی داخلی حیثیت دب گئی اور دین کی خارجی حیثیت اس کے اوپر چھا گئی۔ جس طرح ”انسان “ کی مندرجہ بالا تشریح میں سماجی حالات کی تبدیلی اصل انسانی کام قرار پاتی ہے، نہ کہ اس کے ذہن اور روح کی تبدیلی۔ اسی طرح دین کی اس تشریح میں دینی جدوجہد کا نشانہ انقلاب نظام قرار پایا۔ حالانکہ دنیا میں بندہ مومن کا نشانہ یا اس کے عمل کا آخری مقصود اپنے رب سے وہ قلبی اور روحانی تعلق پیدا کرنا ہے جس کو قرآن میں ذکر وشکر، خشیت و تضرع، خشوع وخضوع، اخبات و انابت وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر فطرت اور واقعہ میں عدم مطابقت پیدا ہو جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ نظریہ اپنے پہلے ہی تجربہ میں شدید ناکام ہو گیا۔ دین کے ”مکمل تصور “ نے صرف ” ناقص “ قسم کے دیندار پیدا کیے ۔ بیج کو اس کی اصل جگہ پر نہ ہونے کی وجہ سے درخت کا کوئی حصہ بھی صحیح شکل میں پیدا نہیں ہوا۔ خدا اور بندے کا تعلق جو ایک نہایت اعلیٰ اور لطیف تعلق ہے، اس تعبیر کے خانے میں آکر وہ ایک قسم کا سیاسی تعلق بن کر رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظریہ نہ تو قرآن کی آیات پر چسپاں ہوتا ہے اور نہ صلحائے امت کی زندگیاں اس کے ”معیار“ پر پوری اترتی ہیں۔ دین کا وہ مخصوص نقشہ جو اس فکر کے نزدیک دین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page