Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح ترین نقشہ ہے، اس کے حق میں سارے قرآن میں کوئی بھی صریح آیت موجود نہیں۔ اس نقشہ کے مطابق بات یہ بنتی ہے کہ دین انسانی زندگی کا ایک مکمل نظام ہے اور اس پورے نظام کو بروئے کار لانے کے لیے جدوجہد کرنا وہ انسانی مشن ہے جو اہلِ ایمان کے سپرد ہوا ہے۔ لیکن کتاب الہیٰ میں کوئی ایک فقره بھی ایسا نہیں ہے جس سے اس نقطۂ نظر کو واقعی طور پر اخذ کیا جا سکتا ہو۔ اس سلسلے میں جو آیتیں پیش کی جاتی ہیں، ان کے بارے میں تفصیلی تجزیہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس استدلال کی نظریاتی خامی ہوئی۔ اسی طرح عملی اعتبار سے دیکھیے تو امت کی ساری تاریخ میں کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آتا جس نے اس ڈھنگ پر ”جامع انقلابی تحریک“ چلائی ہو۔ دنیا کے بے شمار علاقوں میں مسلمان پھیلے اور ہر جگہ انھوں نے دعوتِ دین کا کام کیا، جن میں بہت سے مقامات پر بعد کو اسلام کی حکومتیں بھی قائم ہوئیں۔ مگر کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کہ انھوں نے ”اسلامی انقلاب برپا کرنے یا حکومتِ الہیہ قائم کرنے کی دعوت کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا ہو۔ اس سلسلے میں اگر کسی نے کوئی نظیر پیش کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ محض تاریخ سازی ہے، نہ کہ تاریخ نگاری۔ اب اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ان تمام لوگوں کی دعوت ادھوری تھی یا ان کو پورے دین کا شعور نہیں تھا، تو ایسی ہر تاویل محض اپنی غلطی کا اعتراف ہوگی۔ کیوں کہ اسلام کی پوری دعوتی تاریخ کو ناقص ماننے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم ایک شخص کے خیالات کو ناقص مان لیں۔ اس فکر کا یہ خلا جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے، اتنا واضح ہے کہ کوئی بھی غیر جانبدار شخص، جسے قرآن و سنت سے براہِ راست آشنا ہونے کا موقع ملا ہو وہ اسلام کے منصوص نقشہ کے ساتھ اس فکر کی بے گانگی کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حتیٰ کہ خود اس کے اپنے حلقہ کے اہلِ علم کو بھی انھیں لوگوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جو اس فکر سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ مولانا مودودی کے بارے میں تو میں نہیں کہہ سکتا، مگر ہندوستان میں جولوگ اس فکر کے وارث ہوئے ہیں، ان کے متعلق بلا شبہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس کے متعلق اپنے اندر بے اطمینانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page