ضمیمہ
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
محسوس کرتے ہیں۔ تقسیم کے بعد جب جماعت اسلامی ہند کی باگ ڈوران حضرات کے ہاتھ میں آئی، اسی وقت سے ان کا یہ احساس مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ لٹریچر پر نظرثانی، دستور میں نصب العین کے فقرے کی تبدیلی، پالیسی میں داخلی پہلو کو سب سے زیادہ جگہ دینا، وغیرہ، وہ واقعات ہیں جو میرے اس بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔ لیکن میرا اندازہ ہے کہ ہندوستان کی جماعت اسلامی کے یہ رہنما موجودہ فکر میں اختلال کو محسوس کرنے کے باوجود اس کا واضح اور متعین شعور نہیں رکھتے۔ وہ ابھی تک اس کا تجزیہ نہیں کر سکے۔ اس لیے وہ اب تک اس کے حل کی صحیح تدبیر بھی سوچ نہیں سکے ہیں۔ ان کے احساس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس فکر کے مجموعی نقشہ میں یہ جو بات ہوئی ہے کہ اسلام کا روحانی پہلو دب گیا ہے اور اس کا سیاسی پہلو ابھر آیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض ایک اتفاقی واقعہ ہے جو خارجی حالات کے سبب سے پیش آگیا۔ یعنی اس فکر کے علم بردار نے جس مخصوص زمانے میں اپنے خیالات پیش کرنے شروع کیے، وہ چونکہ سیاسی ہنگاموں کا زمانہ تھا، ملک میں سیاسی تحریکیں زور وشور سے چل رہی تھیں، اس لیے اس کی تحریروں میں سیاست کا غلبہ ہوگیا۔ اب اس کا حل ان کے نزدیک یہ ہے کہ تقرير وتحریر میں دبے ہوئے پہلو کو ابھارا جائے۔ دین کا متوازن تصور پیش کیا جائے تا کہ سیاست و حکومت کے ساتھ دین کے دوسرے پہلوؤں کو بھی ان کی جگہ حاصل ہو۔ یہ بات اوپر سے لے کر نیچے تک جماعت کے مختلف اصحاب نے خود میری تنقید کے جواب میں کہی۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کی یہ توجیہہ مولانا مودودی کے لٹریچر کو جو حیثیت دیتی ہے وہ کسی طرح اس پر منطبق نہیں ہوتی۔ تاہم اگر آپ کا اصرار ہے تو آپ مولانا مودودی سے لکھوا کر منگوا دیجیے کہ انھوں نے اپنی تحریروں میں دین کا جو تصور دینے کی کوشش کی ہے وہ ان کے نزدیک علی اطلاق دین کی تشریح نہیں ہے بلکہ محض وقتی حالات کے پیش نظر انھوں نے کچھ چیزوں پر زور دیا ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں ہوا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں مولانا مودودی کی طرف سے اس قسم کی تصدیق فراہم کرے۔ حقیقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader