Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ہے کہ بہت سی باتیں آدمی محض مخاطب کے جواب کے طور پر کہہ دیتا ہے حالانکہ فی الواقع اس پر اس کا یقین نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صورتِ حال کا نہایت ناقص اندازہ ہے۔ یہ لوگ ایک ایسے فکر کو جو درحقیقت دین کی ایک تعبیر ہے، محض حالات کا وقتی تاثر سمجھتے ہیں۔ اس لیے اس کے حل کے لیے بھی وقتی نوعیت کی تدبیر میں سوچ رہے ہیں۔ وہ کلی بگاڑ کو جزئی ترمیم کے ذریعہ درست کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ٹکڑوں کے کھیل (jigsaw puzzle) کا کوئی سیٹ جو گھوڑے کے لیے بنایا گیا ہو، اس کا کوئی بچہ اونٹ سمجھ کر غلط شکل میں ترتیب دے دے۔ اب کوئی صاحب کہیں کہ اس تصویر میں بس گردن ذراسی لمبی ہو گئی ہے۔ اگر اس کی گردن چھوٹی کر دی جائے تو وہ گھوڑاد بن جائے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی تدبیر نہیں ہے۔ کیوں کہ ٹکڑوں کے ایک ڈھیر کا گھوڑا یا اونٹ ہونا ، اس کی مجموعی حکمت سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص غلطی سے گھوڑے کے ٹکڑوں کو اونٹ کے ٹکڑے سمجھ لے اور اپنے اس ذہن کے مطابق ایک ڈھانچہ بنا ڈالے، تو اس ڈھانچہ میں صرف اتنی سی غلطی نہیں ہوگی کہ اس کی گردن لمبی ہو کر اونٹ کی مانند ہو گئی ہے، بلکہ اسی مناسبت سے اس کا پورا وجود بنانے کی کوشش کی گئی ہوگی۔ اس لیے محض گردن چھوٹی کر دینے سے تصویر حقیقت کے مطابق نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے پورے ڈھانچہ کو توڑ کر از سر نو واقعہ کے مطابق بنانا ہوگا۔ اس کے ہر ہر جزء کو دوبارہ اپنے صحیح مقام پر رکھنا ہوگا۔ دین کا صحیح تصور جس کے تحت اس کے مختلف اجزاء کو ہم زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور جو کسی خلاء کے بغیر پوری اسلامی تاریخ کو ایک تسلسل میں جوڑ دیتا ہے، وہ یہ ہے کہ دین کی اصل حقیقت خدا سے خوف ومحبت اور ولایت وتوکل کا تعلق پیدا کرنا ہے۔ اس تعلق کا لازمی مظہر وہ چیز ہے جس کو شریعت کی اصطلاح میں "عبادت" کہا جاتا ہے۔ پھر جب آدمی خدا کو اپنا معبود ومطلوب بنالیتا ہے اور اس کا پرستار بن جاتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے معاملات میں خدا کی پسند کا لحاظ اور اس کے احکام کی اطاعت کرنے لگتا ہے، وہ اپنے اختیار کو خدا کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page