ضمیمہ
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
اختیار کے تابع کر دیتا ہے ۔ پھر خدا کا عابد و مطیع ہو جانا لازمی طور پر تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس بہترین کام میں لگانا چاہے جو خدا کا کام ہے اور جس کے متعلق خدا چاہتا ہے کہ اس دنیا میں اسے انجام دیا جائے ۔ اس لحاظ سے تبلیغ حق اور نصرت دین کے سارے پہلو اس کی زندگی میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ دین اصلاً خدا کا حکم ہے اور اسی حیثیت سے ہمیں اس کے احکام پر عمل کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اسی کا مکلف قرار دیا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ دین کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ ہماری نفسیات سے اس کا گہرا تعلق ہے ۔ وہ صرف خارج سے ملا ہوا ایک قانونی حکم نہیں ہے بلکہ وہ خود انسان کی اندرونی طلب کا جواب ہے ۔ وہ انسانی فطرت کا ظہور ہے ۔ اور ہمارا دین کا مطالعہ اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جب کہ ہم اس دوسرے پہلو کو بھی اپنے سامنے رکھیں ۔ گویا دین کی حکمت جامع تعلق باللہ ہے اور دوسری تمام چیزیں اسی اندرونی حقیت کے مظہر یا اس کے تقاضے کی حیثیت سے اس کے ساتھ جڑتی ہیں ، نہ کہ نظام ، جس کو زیر بحث فکر نے حکمت جامع قرار دیا ہے اور اسی نسبت سے دین کے تمام فکری اور عملی پہلوؤں کو اس سے مربوط کرتی ہے ۔ گویا دینی تعلیمات کے مختلف اجزاء کسی یکساں نوعیت کی ” فہرست “ کا نام نہیں ہیں ۔ جیسا کہ تصورِ نظام تقاضا کرتا ہے ۔ بلکہ دین کی ایک حقیقت ہے اور بقیہ چیزیں اس کے وہ پہلو ہیں جو مختلف نسبتوں کے تحت اس میں پیدا ہوتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں دین کے کچھ اجزاء باعتبار حقیقت مطلوب ہیں اور کچھ باعتبار اضافت ۔ حقیقی تقاضے سے مراد ہے داخلی اور حسیا تی طور پر خدا کو پالینا اور بالکل اس کا عابد و پرستار بن جانا ۔ اضافی تقاضے سے مراد وہ تمام احکام ہیں جو خارجی زندگی کے لیے دیے گئے ہیں اور مختلف حالات و معاملات سے متعلق ہونے کی صورت میں ، ان کے بارے میں اہل ایمان کے رویہ کو ظاہر کرتے ہیں ۔ حقیقی تقاضا ، ہر شخص سے ، ہر حال میں لازماً مطلوب ہوتا ہے ۔ زمانے یا حالات سے اس کے اوپر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ یہی وہ اصل اور اولین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader