ضمیمہ
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
چیز ہے جس کو اس دنیا میں حاصل کر لینا انسان کی سب سے بڑی سعادت ہے۔ اس کے برعکس، اضافی تقاضے حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں اور دائرہ اختیار کے لحاظ سے اس کی ”تکلیف“ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ اگر اضافت موجود ہو تو اس وقت وہ بھی لازماً اسی طرح مطلوب ہوگا جیسے حقیقی تقاضا۔ اور اگر اضافت نہ پائی جا رہی ہو تو اس حکم کی حد تک ، اہل ایمان کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی۔ گویا حقیقت اور اضافت کا یہ فرق دونوں قسم کے احکام کے محض نوعی فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی یہ فرق صرف اس اعتبار سے ہے کہ کون سا حکم کب مطلوب ہے۔ مطلوب و مفروض ہونے کے بعد، ادائیگی کے پہلو سے ، ان کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ فکر کا یہ فرق جو میں نے اوپر بتایا، اسی سے مشن کے تصور میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ جو چیز کسی مجموعہ کی وجہ جامع ہو، اس کی حیثیت یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ وجود میں آ جائے تو گویا ساری چیزیں وجود میں آ گئیں اور اگر وہ پیدا نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر کوئی چیز بھی پیدا نہیں ہو سکتی۔ اس لیے جوذ ہن جس چیز کو سبب جامع قرار دے، قدرتی طور پر وہ اسی کو بروئے کار لانے پر سب سے زیادہ زور دے گا۔ کیوں کہ اس کا احساس یہ ہوگا کہ اسی کے وجود میں آنے پر بقیہ تمام چیزوں کا وجود میں آنا منحصر ہے۔ زیر بحث فکر میں ہم جو یہ بات دیکھتے ہیں کہ وہ نظام برپا کرنے پر سب سے زیادہ زور دیتی ہے، وہ اسی مخصوص ذہنیت کا نتیجہ ہے اس کے مقابلے میں اسلام کی تاریخ میں یہ جو بات نظر آتی ہے کہ داعیان امت ہمیشہ خدا اور آخرت کی حقیقتوں کو ذہنوں میں بٹھانے پر سب سے زیادہ توجہ صرف کرتے رہے، اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اپنے تصور دین کے مطابق وہ سمجھتے تھے کہ اسی کے پیدا ہونے پر ساری دینی حقیقتوں کے پیدا ہونے کا انحصار ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader