Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

تصورِ دین مولانا مودودی کا جو دینی تصور ہے، اس کو انھوں نے سب سے زیادہ واضح اور مربوط شکل میں اپنی اُس کتاب میں پیش کیا ہے، جس کا نام ہے—“قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں“۔ یہ کتاب اس فکر کے تحت پیدا شدہ لٹریچر میں اس حیثیت سے نہایت اہمیت رکھتی ہے کہ وہ واحد کتاب ہے جس میں علمی طور پر اس فکر کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب اس فکر کی علمی بنیاد ہے۔ ترجمان القرآن منصب رسالت نمبر (ستمبر 1961ء) میں اس کتاب کا تعارف ان الفاظ میں دیا گیا ہے: ”صحیح معنوں میں فہم قرآن کی کنجی، یہ کتاب پڑھ کر قرآن مجید پڑھیے، معرفتِ قرآن کے دروازے کھل جائیں گے۔“ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی کے تصورِ دین کا جائزہ لینے کے لیے ان کے سارے لٹریچر میں ”قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں“ سب سے زیادہ موزوں اور معتبر کتاب ہے، اسی لیے اس باب کی بنائے بحث کے طور پر میں نے اسی کو منتخب کیا ہے۔ اس کتاب میں قرآن کے چار بنیادی الفاظ—اِلہٰ، رب، عبادت، دین کی تشریح کی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ انھیں چار الفاظ میں وہ ساری انقلابی دعوت چھپی ہوئی ہے جو زیرِ بحث تعبیر نے پیش کی ہے۔ مگر ایک عرصہ سے ان الفاظ کا وسیع اور مکمل مفہوم ذہنوں میں نہیں ہے۔ اس لیے اسلام کا وسیع اور انقلابی تصور لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ لکھتے ہیں: ”عرب میں جب قرآن پیش کیا گیا تھا اس وقت ہر شخص جانتا تھا کہ اللہ کے کیا معنی ہیں اور رب کسے کہتے ہیں، کیوں کہ یہ دونوں لفظ ان کی بول چال میں پہلے سے مستعمل تھے، انھیں معلوم تھا کہ ان الفاظ کا اطلاق کس مفہوم پر ہوتا ہے، اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ اللہ ہی اکیلا الہٰ اور رب ہے اور الوہیت اور ربوبیت میں کسی کا قطعاً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page