ضمیمہ
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی حصہ نہیں تو وہ پوری بات کو پاگئے ۔ انہیں بلا کسی التباس واشتباہ کے معلوم ہو گیا کہ دوسروں کے لیے کس چیز کی نفی کی جا رہی ہے اور اللہ کے لیے کس چیز کو خاص کیا جا رہا ہے ۔ جنھوں نے مخالفت کی یہ جان کر کی کہ غیر اللہ کی الوہیت و ربوبیت کے انکار سے کہاں کہاں ضرب پڑتی ہے، اور جو ایمان لائے وہ سمجھ کر ایمان لائے کہ اس عقیدہ کو قبول کر کے ہمیں کیا چھوڑنا اور کیا اختیار کرنا ہوگا۔ اسی طرح عبادت اور دین کے الفاظ بھی ان کی بولی میں پہلے سے رائج تھے، ان کو معلوم تھا کہ عبد کسے کہتے ہیں، عبودیت کس حالت کا نام ہے، عبادت سے کون سا رو یہ مراد ہے، اور دین کا کیا مفہوم ہے ۔ اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ سب کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ کی عبادت کرو، اور ہر دین سے الگ ہو کر اللہ کے دین میں داخل ہو جاؤ تو انھیں قرآن کی دعوت کو سمجھنے میں کوئی غلط فہمی پیش نہ آئی ، وہ سنتے ہی سمجھ گئے کہ یہ تعلیم ہماری زندگی کے نظام میں کس نوعیت کے تغیر کی طالب ہے۔ لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ ان سب الفاظ کے وہ اصلی معنی جو نزول قرآن کے وقت سمجھے جاتے تھے، بدلتے چلے گئے ، یہاں تک کہ ہر ایک اپنی پوری وسعتوں سے ہٹ کر نہایت محدود بلکہ مبہم مفہومات کے لیے خاص ہو گیا۔ اس کی ایک وجہ تو خالص عربیت کے ذوق کی کمی تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام کی سوسائٹی میں جو لوگ پیدا ہوئے تھے ان کے لیے الٰہ اور رب اور دین اور عبادت کے وہ معانی باقی نہ رہے تھے جو نزول کے وقت غیر مسلم سوسائٹی میں رائج تھے انہی دونوں وجوہ سے دور اخیر کی کتب لغت و تفسیر میں اکثر قرآنی الفاظ کی تشریح اصل معانی لغوی کے بجائے ان معانی سے کی جانے لگی جو بعد کے مسلمان سمجھتے تھے ۔ مثلاً: لفظ الٰہ کو قریب قریب بتوں اور دیوتاؤں کا ہم معنی بنا دیا گیا ، رب کو پالنے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader