تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ سمجھنے کی وجہ سے وہ اس کی مضبوط وکالت نہ کرسکے۔ چنانچہ ان مخالفین کی طرف سے جو تحریریں شائع ہوئی ہیں، اس نے دو طرفہ نقصان پہنچایا ہے۔ ایک طرف تو ان کی وجہ سے جماعت کے افراد میں ایک قسم کا نظریاتی کبر پیدا ہو گیا ہے۔ کمزور تنقیدوں نے ان کے اندر یہ غلط یقین پیدا کر دیا ہے کہ ہم لازماً حق پر ہیں اور مخالفین لازماً غلطی پر۔ اور دوسری طرف اس کا نقصان یہ ہے کہ ایک صحیح محاذ کمزور وکالت کی وجہ سے بے اثر ہو کر رہ گیا ہے۔ میرا احساس ہے کہ، ان شاء اللہ، میری یہ کتاب دونوں فریقوں کے لیے اس حیثیت سے سوچنے کا نیا مواد فراہم کرے گی۔ 5۔ آخری بات یہ کہ یہ مصالح اگر بالفرض موجود نہ ہوں، جب بھی میرا یہ احساس کہ ”دین مجروح ہوا ہے“، میرے لیے اس بات کی کافی وجہ ہے کہ میں اس کو واضح کرنے کی کوشش کروں۔ کیوں کہ دین کی وضاحت بذات خود مطلوب ہے۔ معذرت اس باب کے آخر میں مجھے اپنے ان ساتھیوں سے معذرت کرنی ہے، جن سے پچھلے پندرہ سال سے میں وابستہ رہا ہوں، جو مجھے جانتے ہیں اور جن کو میں جانتا ہوں، ان لوگوں کو یقیناً اس کتاب کی اشاعت سے تکلیف ہوگی، مگر یقین مانیے مجھے اس سے زیادہ تکلیف ہے، یہ کتاب میرے لیے انتہائی ناخوشگوار فریضہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ مجھے کسی فرد سے قطعاً کوئی ذاتی شکایت نہیں، اس کتاب کا تعلق کسی فرد یا افراد سے نہیں، بلکہ حقیقتاً صرف مولانا مودودی کے اس مطبوعہ لٹریچر سے ہے جس میں اسلام کی تشریح و تعبیر کی گئی ہے۔ دوسرے افراد زیر بحث آئے ہیں تو صرف اس لیے کہ وہ اس لٹریچر کی مدافعت یا اس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ اس سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اگر وہ اس لٹریچر کو اپنا لٹریچر نہ قرار دیں تو مجھے ان کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوگی، اس کے بعد میں ان کے خلاف اپنا پورا مقدمہ واپس لے لوں گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader