Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

پوسنے والے یا پروردگار کا مترادف ٹھہرایا گیا، عبادت کے معنی پوجا اور پرستش کے کیے گئے ۔ دین کو دھرم اور مذہب اور religion کے مقابلے کا لفظ قرار دیا گیا ۔ طاغوت کا ترجمہ بت یا شیطان کیا جانے لگا، نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کا اصل مدعا ہی سمجھا لوگوں کے لیے مشکل ہو گیا۔ پس یہ حقیقت ہے کہ محض ان چار بنیادی اصطلاحوں کے مفہوم پر پردہ پڑ جانے کی بدولت قرآن کی تین چوتھائی سے زیادہ تعلیم ، بلکہ اس کی حقیقی روح نگاہوں سے مستور ہوگئی ہے ، اور اسلام قبول کرنے کے باوجود لوگوں کے عقائد و اعمال میں جو نقائص نظر آ رہے ہیں ان کا ایک بڑا سبب یہی ہے ۔ لہذا قرآن مجید کی مرکزی تعلیم اور اس کے حقیقی مدعا کو واضح کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان اصطلاحوں کی پوری پوری تشریح کی جائے “۔ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں، مقدمہ) اس تمہید کے بعد کتاب میں ان ”چاروں اصطلاحوں کا مکمل مفہوم “ بیان کیا گیا ہے۔ مگر یہ تمہیدی بقیہ کتاب کی صحت کو مشکوک کر دیتی ہے ۔ کیوں کہ قرآنی آیات کے جس مفہوم کے بارے میں یہ اعتراف کیا گیا ہو کہ دور اول کے بعد وہ موجودہ صدی میں پہلی بار اخذ کیا گیا ہے ، اور درمیان میں امت کا تحریری سرمایہ اس سے ”اکثر “ خالی ہے، وہ یقینی طور پر اس کے ناقص ہونے کا ثبوت ہے، نہ کہ اس کے کامل ہونے کا ۔ ”بعد کی صدیوں میں “ لغت اور تفسیر کی جو کتابیں مدون ہوئیں ، ان کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ وہ صرف بعد کے لوگوں کی ذہنی کوششیں ہیں ، بلکہ اسی کے ساتھ وہ دور اول کے خیالات کا ریکارڈ بھی ہے ۔ یہ ایک تسلسل ہے جس کے ذریعہ سے قرن اول قرون آخر کی طرف منتقل ہوا ہے ۔ اب دور اول کے لوگوں نے اگر وہی سمجھا تھا جو آج ایک شخص ان کی طرف منسوب کر رہا ہے ، تو دور اول کے بعد کی نسلیں ، جنھوں نے دور اول کے اقوال وافعال کو محفوظ کرنے کا نہایت شدید اہتمام کیا ہے، وہ اس اہم ترین بات کو بھی ضرور محفوظ کرتیں جس کے بغیر ” قرآن کی تین چوتھائی سے زیادہ تعلیم بلکہ اس کی حقیقی روح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page