ضمیمہ
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
نگاہوں سے مستور ہوگئی۔ اگر اس تحریری ریکارڈ میں وہ بات لکھی ہوئی نہیں ملتی جو آج ان کی طرف منسوب کی جارہی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ان کی بات ہی نہیں۔ ایسی صورت میں یہ انتساب حقیقتاً کسی خارجی واقعہ کا اظہار نہیں ہے بلکہ وہ اپنی اس اندرونی خلش کو دور کرنے کی ایک تدبیر ہے کہ "اگر قرآنی آیات کا مفہوم وہی ہے جیسے میں سمجھ رہا ہوں تو پچھلے لوگوں نے ان کا یہ مفہوم کیوں نہیں سمجھا۔" تفصیلی بحث سے پہلے اس کتاب پر میں عمومی حیثیت سے ایک مختصر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں تا کہ غلطی کی وہ مشترک نوعیت واضح ہو سکے جو اصطلاحات اربعہ کی تشریح میں کی گئی ہے ۔ یہ غلطیاں عموماً تین قسم کی ہیں : 1۔ اصل اور تقاضے کی یکساں فہرست بندی۔ 2۔ تقاضے کو اصل قرار دے کر اس پر دوسری چیزوں کو متفرع کرنا۔ 3۔ پھر اسی کو قرآن کی اصل دعوت کی حیثیت سے پیش کرنا۔ اس کتاب کی تشریح کے مطابق قرآن کی یہ دعوت کہ : "اللہ تعالیٰ ہی اکیلا رب اور الٰہ ہے، اس کے سوا نہ کوئی الٰہ ہے نہ رب، اور نہ الوہیت اور ربوبیت میں کوئی اس کا شریک ہے، لہٰذا اسی کو اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی الہیت و ربوبیت سے انکار کر دو، اس کی عبادت اختیار کرو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کر لو اور ہر دوسرے دین کو رد کر دو۔" یہ دراصل ایک ایسے نظام کے تحت زندگی گزارنے کی دعوت ہے جس میں عقیدے اور عبادت سے لے کر سیاسی اور تمدنی معاملات تک تمام انفرادی و اجتماعی شعبے ایک خاص نقشہ کے مطابق تعمیر کیے گئے ہوں۔ اور جب قرآن کی دعوت یہ ہے تو آج بھی اس دعوت کے لیے کام کرنے کا طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ ہم زندگی کے اس مفصل نقشہ کو دنیا میں غالب کرنے کی جدوجہد کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader