ضمیمہ
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی سطح ہیں کو محبت کی یہ تعریف بہت جامع معلوم ہو۔ مگر در حقیقت اس میں ایک شدید غلطی کی گئی ہے۔ اس میں محبت کی اصل حقیقت اور اس کے تقاضوں کو بالکل برابر کی حیثیت دے کر بیان کر دیا گیا ہے۔ گویا یہ تینوں باتیں جب ایک شخص اپنے اندر جمع کر لے ، اسی وقت اس کی محبت واقعی محبت قرار پائے گی۔ حالانکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ کسی مثال میں صرف آخری جزء (دل سے چاہنا) پایا جائے اور بقیہ دو اجزا نہ تو اس کے اندر موجود ہوں اور نہ ان کو حاصل کرنے کی باقاعدہ کوشش کی گئی ہو ، اس کے باوجود وہ مکمل معنوں میں محبت ہو۔ حقیقت اور تقاضے میں یہ فرق ہے کہ حقیقت اصل چیز کے براہ راست مطالبہ کے طور پر مطلقاً مطلوب ہوتی ہے جب کہ تقاضا اس طرح مطلق طور پر مطلوب نہیں ہوتا۔ بلکہ کسی اور چیز کے واسطہ سے مطلوب ہوتا ہے اگر واسطہ کی نسبت پائی جائے تو وہ مطلوب ہوگا ورنہ نہیں۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ ”ایمان کا تقاضا ہے کہ آدمی سچی گواہی دے“ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ہر وہ شخص جو مومن ہے وہ کسی نہ کسی طرح یہ صورت نکالے۔ جب کہ اس نے عدالت میں حاضر ہو کر سچی گواہی دی ہو۔ اس کے بغیر اس کا ایمان مکمل ایمان نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب اسے گواہی کے لیے کھڑا کیا جائے تو وہ جھوٹ نہ بولے بلکہ جو بات اسے معلوم ہے اسے سچ سچ بتادے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنف ایک اصطلاح کو جن مختلف مفہومات کا جامع قرار دیتے ہیں ، بعض مستثنیات کو چھوڑ کر وہ الگ الگ تو نکلتا ہے، مگر کسی ایک آیت سے اس کا وہ جامع مفہوم ثابت نہیں ہوتا جو مختلف حوالوں کے مجموعہ سے یک جائی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایسا تو ہے کہ مختلف مقامات پر اس طرح کے فقرے لکھے ہوئے ہیں کہ ”زید کو بکر سے دلی محبت ہے۔“ بکر سے ملاقات ہوئی تو زید نے جوش محبت میں اس کو گلے سے لگالیا۔“ بکر زید کی بستی میں آیا تو اس نے بکر کی پر خلوص دعوت کی۔“ مگر ساری کتاب میں ایسا کوئی جملہ نہیں ملتا جس میں یہ لکھا ہو کہ ”محبت نام ہے تین چیزوں کا ــــ دل سے محبت کرنا، گلے لگانا، دعوت کرنا“۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader