Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

جامع مفہوم کو ثابت کرنے کے لیے جو آیتیں نقل کی گئی ہیں ان پر تبصرہ ہر لفظ کی الگ بحث میں آگے آرہا ہے۔ مگر غلطی یہیں نہیں رکتی۔ اسی کے ساتھ ایک اور مشترک غلطی ہے جو چاروں بحثوں میں کم وبیش پائی جاتی ہے۔ اور وہ یہ کہ اصل اور تقاضے کی یکساں فہرست بندی سے جب ذہن کو تسکین نہیں ہوئی تو اس نے پورے معاملہ کو الٹ دیا اور جو چیز تقاضے کے درجے میں مطلوب تھی اسے اصل قرار دے کر اصل کو اس کا تابع کر دیا۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی کو دعوت مدارات سے زیادہ دل چسپی ہو تو وہ دعوت کو محبت کے اجزائے سہ گانہ میں سے ایک جزء کی حیثیت دے کر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ وہ تو اسی کو سب سے اوپر رکھنا چاہے گا۔ وہ کہے گا کہ محبت کی اصل حقیقت دعوت کرنا ہے۔ اب چونکہ دعوت میں ملاقات ہوتی ہے اس لیے دوست کو گلے بھی لگا لیا جاتا ہے۔ اور جب اس طرح سے دعوت اور معانقہ میں کچھ دن گزر جاتے ہیں تو فطری طور پر دل میں ایک دوسرے کی محبت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس غلطی کو واضح کرنے کے لیے یہاں میں عبادت کی مثال دوں گا۔ عبادت اصلاً اس مخصوص کیفیت کا نام ہے جو خدا سے بے حد خوف اور اس سے بے حد محبت کے نتیجے میں بندۂ مومن کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ جب یہ کیفیت کسی کے اندر ابھر آتی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر وہ خدا کا پرستار ہو جاتا ہے۔ وہ اس کی مرضیات پر چلنے لگتا ہے، وہ اپنے تمام معاملات میں اس کا مطیع فرمان بن جاتا ہے۔ لیکن زیر بحث ذہن کو عبادت کی یہ تصویر کچھ زیادہ پسند نہیں آئی۔ کیوں کہ اس میں اقتدار اعلیٰ کو مان کر اس کی ماتحتی میں ایک نظام اطاعت بنانا اصل مفہوم یہاں محبت کی جو مثال میں نے دی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ زیر بحث کتاب میں اصطلاحات اربعہ کے جو تقاضے گنائے گئے ہیں، وہ بھی لازمی طور پر اسی درجے کے تقاضے ہیں۔ یہ محض ایک مثال ہے جو میں نے مسئلہ کی نوعیت واضح کرنے کے لیے دی ہے۔ ورنہ یہ ایک معلوم بات ہے کہ تقاضے سب یکساں درجے کے نہیں ہوتے۔ ان میں اہمیت کے اعتبار سے بہت فرق ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page