ضمیمہ
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
کا محض ایک خارجی تقاضا قرار پا رہا تھا اس لیے اس نے عبادت کے تصور کو الٹ دیا۔ عبادت کی بحث میں اس لفظ کی لغوی تحقیق کے بعد لکھتے ہیں: ”اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مادہ عبد کا اساسی مفہوم کسی کی بالا دستی و برتری تسلیم کر کے اس کے مقابلے میں اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہو جانا، سر تابی و مزاحمت چھوڑ دینا اور اس کے لیے رام ہو جانا ہے۔ یہی حقیقت بندگی اور غلامی کی ہے۔ لہٰذا اس لفظ سے اولین تصور جو ایک عرب کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ بندگی و غلامی ہی کا تصور ہے ۔ پھر چونکہ غلام کا اصلی کام اپنے آقا کی اطاعت و فرمانبرداری ہے اس لیے لازماً اس کے ساتھ ہی اطاعت کا تصور پیدا ہوتا ہے، اور جب کہ ایک غلام اپنے آقا کی بندگی اور اطاعت میں محض اپنے آپ کو سپرد ہی نہ کر چکا ہو بلکہ اعتقاداً اس کی برتری کا قائل اور اس کی بزرگی کا معترف بھی ہو، اور اس کی مہربانیوں پر شکر و احسان مندی کے جذبے سے بھی سرشار ہو، تو وہ اس کی تعظیم و تکریم میں مبالغہ کرتا ہے۔ مختلف طریقوں سے اعتراف نعمت کا اظہار کرتا ہے اور طرح طرح سے مراسم بندگی بجا لاتا ہے، اسی کا نام پرستش ہے اور یہ تصور عبدیت کے مفہوم میں صرف اس وقت شامل ہوتا ہے جبکہ غلام کا محض سر ہی آقا کے سامنے جھکا ہوا نہ ہو بلکہ اس کا دل بھی جھکا ہوا ہو“۔ ( قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں دوسرا ایڈیشن ، صفحہ 72-71 ) اسی طرح اس کتاب میں چاروں اصطلاحوں کا مفہوم الٹ گیا ہے۔ الہ اور رب میں ” اقتدار “ کے تصور سے اس کے دیگر ” مفہومات “ اخذ کیے گئے ہیں، حالانکہ حقیقتاً احساس احتیاج اور احساس پرورش اس کے دوسرے پہلوؤں کے درمیان وجہ اشتراک ہے۔ عبادت کی بحث میں بالاتری تسلیم کر کے اس کے مقابلے میں اطاعت اختیار کرنے کو اس کے دیگر ” اجزاء “ کی اساس قرار دیا گیا ہے، حالانکہ عبادت کی اصل حقیقت خدا سے عاجزانہ اور مشتاقانہ تعلق ہے۔ اور اسی سے دوسری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader