ضمیمہ
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام چیزیں اس کے تقاضے یا نتیجے کے طور پر پیدا ہوتی ہیں۔ دین میں "نظام" کے تصور کو اس کے دیگر اجزاء کے لیے سبب جامع قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت کے اعتبار سے دین، اندرونی جھکاؤ اور مغلوبیت کا نام ہے اور اسی سے دوسری تمام چیزیں اس میں ظاہر ہوتی ہیں۔ اصطلاحات اربعہ کی تشریح کا یہ فرق، محض لفظی ہیر پھیر کا فرق نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ سے دین کی اصل حقیقت مجروح ہوگئی ہے۔ قرآنی اصطلاحات کا جامع اور مکمل مفہوم متعین کرنے کے باوجود قرآن کی اصل اور اعلیٰ ترین حقیقت اس میں اوجھل ہوگئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کو اختیار کرنے کے بعد ایک مومن کو جب سب سے بڑی چیز اس دنیا میں ملتی ہے، وہ تعلق باللہ ہے۔ یہی اس دنیا میں اہل ایمان کا سب سے بڑا حاصل ہے۔ تعلق باللہ سے مراد خدا کو ایک مخصوص "ضابطہ حیات" کی فکری بنیاد کے طور پر ماننا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب ایک گہری وابستگی ہے۔ جو حیاتی سطح پر خدا اور بندے کے درمیان قائم ہوتی ہے۔ اس سے مراد بندے کی وہ نفسیاتی حالت ہے جب اسے خدا کے ساتھ "حب شدید" پیدا ہو گیا ہو (البقرہ، 165)، جب اسے "سجدہ قربت" والی نمازیں حاصل ہونے لگی ہوں (العلق، 96: 19)، جب وہ "خوف وطمع" کے ساتھ خدا کو پکارنے لگا ہو (الاعراف، 56)، جب اس پر حضوری کی ایسی کیفیت طاری ہونے لگے جس کو حدیث میں شبہ رویت سے تعبیر کیا گیا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔ مگر اس کتاب میں قرآن کے مطلوب کی جو تصویر بنائی گئی ہے، اس میں یہ سب سے بڑی چیز جیسے گم ہوگئی۔ وہ اپنی صحیح شکل میں اس کے اندر باقی نہیں رہی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی کا فوٹو سامنے کے بجائے پیچھے سے لیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسا فوٹو بظاہر آدمی کا پورا فوٹو ہوگا، مگر اس میں اس کا چہرہ دکھائی نہیں دے گا جو کہ انسان کا اصل نمائندہ ہے۔ اس تشریح کے مطابق الہ، خدا اور بندے کے درمیان ایک ایسے تعلق کا عنوان ہے جس میں آدمی خدا کو "اقتدار اعلیٰ" کا مالک سمجھتا ہو۔ ایک اس حیثیت سے کہ وہی زمین و آسمان کے اوپر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader