Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

حکومت کر رہا ہے اور دوسرے اس حیثیت سے کہ وہی سیاسی اور تمدنی زندگی کا مقتدر اعلیٰ ہے۔ اسی طرح ربوبیت پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ ”وہی اکیلا خدا تمہارا فوق الفطری رب بھی ہے اور اخلاقی وتمدنی اور سیاسی رب بھی۔“ (صفحہ 64)۔ عبادت سے جو چیز مقصود ہے وہ یہ کہ عملی زندگی میں خدا کے احکام کی تعمیل کی جائے اور اسی کے آگے مراسم پرستش بجالائے جائیں۔ دین سے زندگی کی وہ تفصیلی صورت مراد ہے جو ” اعتقادی وفکری ، اخلاقی وتعلیمی ، تمدنی ومعاشرتی اور معاشی وسیاسی“ حیثیت سے زمین پر بنتی ہے۔ مجھے تسلیم ہے کہ یہ چیزیں جو اصطلاحات اربعہ کی تشریح میں بیان کی گئی ہیں وہ سب کسی نہ کسی حیثیت سے اس میں شامل ہیں۔ مگر ان کی مجموعی تصویر جس طرح بنائی گئی ہے وہ ایسی ہے کہ اصل اور اولین حقیقت اس میں اوجھل ہوگئی۔ یا اگر باقی رہی تو بہت دھندلی شکل میں۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی شان یہ ہے کہ : لَا يَأْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ (41:42)۔ یعنی کوئی غیر واقعی بات قرآن میں نہ اس کے آگے کی طرف سے آسکتی ہے، نہ اس کے پیچھے کی طرف سے۔ کوئی ایسی بات جو اس کتاب کے عین مطابق نہ ہو، وہ کسی طرح اس میں چسپاں نہیں ہوسکتی۔ ایسی ہر تفسیر کو یہ کتاب اسی طرح اگل دے گی جیسے کوئی نہایت لطیف مزاج رکھنے والا آدمی نامناسب غذا کو ہضم نہیں کر سکتا اور قے کر کے اسے باہر نکال دیتا ہے۔ چنانچہ اصطلاحات اربعہ کی تشریح میں جو مختلف باتیں کہی گئی ہیں ، اگرچہ ان میں سے اکثر کسی نہ کسی اعتبار سے صحیح ہیں۔ مگر صرف اس بنا پر وہ قرآنی آیات پر چسپاں نہیں ہو سکتیں کہ ان باتوں کو جس مخصوص حیثیت سے قرآن کی دعوت ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس حیثیت سے وہ قرآن کی دعوت نہیں ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے سارے قرآن نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا ہو۔ مثال کے طور پر اگر آپ کہیں کہ ”اسلام نے معاشی معاملات کے بارے میں بھی احکام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page