Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

دیے ہیں،” تو یہ بات ہر طرح اسلام کے ماخذ سے ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ کا دعویٰ یہ ہو کہ خدا کے رسول اس لیے آئے تھے کہ الہی معاشیات کی بنیاد پر ایک مخصوص معاشی ڈھانچہ تعمیر کریں، تو با وجود یکہ اسلام نے معاشی معاملات کے بارے میں احکام دیے ہیں، مگر اس مخصوص حیثیت یا دوسرے لفظوں میں مقصد نبوت کے طور پر یہ بات ہر گز ثابت نہ ہو سکے گی۔ اور قرآن وحدیث اس کو ماننے سے مکمل طور پر انکار کر دیں گے۔ مثال کے طور پر اس کتاب میں ”رب“ کے پانچ مفہومات میں سے تیسرا مفہوم ”اجتماع کا مرکز“ بتایا گیا ہے (صفحہ 63)۔ یعنی ”وہ مرکزی حیثیت رکھتا ہو، جس پر متفرق اشخاص مجتمع ہوتے ہوں،“ (صفحہ 29)۔ جس کا ”مرکزی اقتدار مملکت کی تمام رعیت کے لیے اجتماع کی بنیاد ہو،“ (صفحہ 40)، جس کی مرکزی شخصیت کسی سرزمین کے تمدن و اجتماع کی اساس ہو،“ (صفحہ 51)۔ اس مفہوم کے لحاظ سے خدا کا رب ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ: ”اس کی وفاداری وہ قدرتی بنیاد ہے جس پر ہماری اجتماعی زندگی کی عمارت صحیح طور پر قائم ہوتی ہے۔ اور اس کی مرکزی شخصیت سے وابستگی تمام متفرق افراد اور گروہوں کے درمیان ایک امت کا رشتہ پیدا کرتی ہے۔“ (صفحہ 68) یعنی خدا کے رب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری سماجی اور تمدنی زندگی کا مرکز ہے اور اسی کے گرد ہماری اجتماعی زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔ جس طرح ایک جمہوری سوسائٹی میں قوم یا وطن وہ مشترک نقطہ ہے جو کسی علاقہ میں بسنے والے افراد کو باہم جوڑ کر ایک نیشن بناتا ہے۔ اور ان کو اس کے لیے تیار کرتا ہے کہ ان کے درمیان ریاست کا مشترک اجتماعی ادارہ وجود میں آ سکے۔ اسی طرح خدا کو ”رب“ کہنے کا مطلب بھی، ایک لحاظ سے یہ ہے کہ وہ ہماری اجتماعی تشکیل کی بنیاد ہے۔ وہ ہم کو ”امت“ کی شکل میں منظم کرتا ہے۔ اصولاً مجھے اس سے اختلاف نہیں کہ خدائے واحد پر ایمان ہی وہ مشترک تصور ہے جو مسلمانوں کو ایک امت ہونے کا احساس دلاتا ہے اور انھیں ایک مشترک رشتہ میں باندھتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page