Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ مگر مذکورہ بالا قسم کے اجتماعی اور تمدنی نظریہ کو رب کے ”تیسرے مفہوم“ کی حیثیت سے پیش کرنا ایک قطعاً غیر قرآنی تصور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو ثابت کرنے کے لیے جو حوالے دیے گئے ہیں ، وہ سب کے سب اصل مسئلہ سے بالکل غیر متعلق ہیں۔ ان میں سے کسی ایک حوالے سے بھی یہ ”تیسرامفہوم“ ثابت نہیں ہوتا۔ یہ کل پانچ آیتیں ہیں ، جن میں سے پہلی آیت یہ ہے: ھُوَرَ݈بُّکُمُ ݈وَإِلَيْهِ ْتُرْجَعُونَ (11:34)۔ یعنی، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ یہ سورہ ہود کی آیت ہے اور اس میں جس رجوع الی الرب کا ذکر ہے اس کا تعلق آخرت سے ہے، نہ کہ دنیا سے۔ پورا ٹکڑا حسب ذیل ہے: قَالُوا يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ۔ قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شَاءَ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ ۔ وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ إِنْ كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (11:32-34)۔ یعنی، انھوں نے کہا، اے نوح تم ہم سے بہت بحث کر چکے سو اب تم وہ چیز لاؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے رہے ہو۔ انھوں نے جواب دیا اس کو اللہ تعالیٰ ، بشرطیکہ اسے منظور ہو، تمہارے سامنے لائے گا اور تم اسے عاجز نہ کر سکو گے۔ اور میری خیر خواہی تمہارے کام نہیں آسکتی گو میں کیسی ہی خیر خواہی کرنا چاہوں، جب کہ اللہ ہی کو تمہارا گمراہ کرنا منظور ہو، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کے پاس تم کو جانا ہے۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حضرت نوح لمبی مدت تک تبلیغ کا کام کرتے رہے، مگر ان کی قوم نے ان کے پیغام کو نہیں سنا۔ یہاں تک کہ جب بہت ہو گیا تو قوم نے کہا کہ ہم تو تمہاری بات نہیں مانتے۔ اب تم نہ ماننے کی صورت میں ہم کو جس عذاب کی دھمکی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page