معذرت
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا مودودی کے لٹریچر میں دین کی جو تشریح کی گئی ہے، اس کے متعلق میرا شدید احساس ہے کہ وہ دین کے صحیح تصور سے ہٹی ہوئی ہے۔ اس تشریح کے اجزائے ترکیبی تو وہی ہیں جو اصلاً خدا کے دین کے ہیں، مگر نئی ترکیب میں اس کا حلیہ بگڑ گیا ہے کہ وہ بجائے خود ایک نئی چیز نظر آنے لگا ہے اور دین کی اصل حیثیت اس میں بری طرح مجروح ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی لٹریچر کے بارے میں اگر ایک شخص کا یہ احساس ہو تو اس کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بس بھر اپنے احساس کا اظہار کرے۔ کیوں کہ دین کو مجروح دیکھنا اور پھر بھی خاموش رہنا اہل ایمان کے لیے جائز نہیں، اب چونکہ بہت سے لوگ ایسے زندہ موجود ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اس لٹریچر سے وابستہ کر رکھا ہے، جنہوں نے اسی کے مطابق اپنا ذہن بنایا ہے اور جو اس کی توسیع و اشاعت کے لیے اپنی بہترین کوشش صرف کر رہے ہیں، اس لیے قدرتی طور پر وہ بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں، مگر میرا ذہن اس معاملہ میں بالکل صاف ہے کہ میرا اصل نشانہ جماعت اسلامی کے افراد یا جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک مخصوص لٹریچر ہے۔ اس سلسلے میں خط و کتابت کا جو حصہ میں شائع کر رہا ہوں، ممکن ہے اس سے بھی کسی کو شکایت ہو مگر ایسا کرنا میرے لیے ضروری تھا، تاکہ ناظرین پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ میں نے الگ تھلگ بیٹھ کر کوئی یک طرفہ فیصلہ نہیں کر لیا ہے، بلکہ اصل بحث کے انتہائی متعلق افراد سے طویل مراجعت کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میرے لیے اس کتاب کو شائع کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ اگر میں اس روداد کو شائع نہ کروں تو کوئی بھی شخص یہ سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں ہو سکتا کہ اس معاملے میں حجت میری طرف ہے یا میرے مخاطبین کی طرف۔ یہ خط و کتابت میرے لیے یہ معنی رکھتی ہے کہ میں اپنے اس احساس میں حق بجانب ہوں کہ ”دین مجروح ہوا ہے“ اور میرا یہ فیصلہ درست ہے کہ مجھے ان مضامین کو شائع کر دینا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader