Urdu book · تعبیر کی غلطی

ضمیمہ

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

دے رہے تھے ، اسے لے آؤ۔ اس کے جواب میں پیغمبر نے فرمایا کہ عذاب دینے کا کام تو خدا کا ہے۔ ایک وقت آئے گا جب تم سب کے سب اس کی طرف پکڑ کر لے جائے جاؤ گے اور تم مجبور ہوگے کہ جو سزا تمہیں دی جائے اس کو بھگتو ۔ اس بات کا مندرجہ بالا "تمدنی اور اجتماعی ربوبیت" سے کیا تعلق۔ دوسری آیت یہ ہے: ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ (39:7) ۔ یعنی ، پھر تمہارا لوٹنا خدا کی طرف ہے۔ یہ آیت بھی آخرت سے متعلق ہے۔ پورا ٹکڑا یہ ہے: إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (39:7) ۔ یعنی ، اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا۔ اور اگر تم شکر کرو تو اس کو تمہارے لیے پسند کرتا ہے۔ اور کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے۔ تم سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے۔ وہ دلوں تک سے باخبر ہے۔ ظاہر ہے کہ اس آیت میں جس "مرجعیّت" کا ذکر ہے اس کا تعلق آخرت سے ہے۔ کہا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں اگر تم شکر گزار بندے ہو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوگا اور اگر تم نے کفر کا رویہ اختیار کیا تو کفر کر کے تم کہیں جا نہیں سکتے۔ تمام لوگوں کو بالآخر خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہ تمہارے دلوں تک سے باخبر ہے۔ اور وہ ہر ایک کو پورا پورا بدلے گا۔ اس "لوٹنے" اور اپنے عمل سے "خبردار" کیے جانے کا دنیا کی سماجی تنظیم سے کیا تعلق۔ تیسری آیت یہ ہے: قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا (34:26) ۔ یعنی ، کہو کہ ہم کو ہمارا رب جمع کرے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page