ضمیمہ
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت میں بھی جس ”اجتماع“ کا ذکر ہے وہ آخرت کا اجتماع ہے۔ پورا ٹکڑا حسب ذیل ہے: قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللَّهُ وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ـ قُلْ لَا تُسْأَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنَا وَلَا نُسْأَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ ـ قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ (34:24-26)۔ یعنی، پوچھو تم کو آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے کہہ دو اللہ۔ اور ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہ ہیں۔ کہہ دو (اگر ہم مجرم ہوں ) تو ہمارے جرائم کی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا۔ کہہ دو کہ ہمارا رب ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا۔ اور وہ بڑا فیصلہ کرنے والا اور جاننے والا ہے۔ اس آیت میں پیغمبر اپنی قوم سے کہہ رہا ہے کہ ہم تم دونوں حق پر نہیں ہوسکتے۔ ہم میں سے کوئی ایک یا تو حق پر ہے یا بدترین گمراہی میں۔ پھر ہر ایک کا عمل اس کے اپنے ساتھ ہے۔ کوئی شخص دوسرے کے عمل میں حصہ پانے والا نہیں۔ عنقریب وہ دن آئے گا جب ہم دونوں خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے۔ اس وقت وہ جو میرے اور تمہارے حال کو بخوبی جانتا ہے، وہ حق کے مطابق ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا— اس بات کا اجتماعی اور سماجی ربوبیت سے کیا تعلق۔ چوتھی آیت یہ ہے: ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ (6:38)۔ یعنی، پھر وہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جائیں گے۔ اس آیت کا بھی تمدنی حشر سے کوئی تعلق نہیں۔ پوری آیت یہ ہے: وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ (6:38)۔ یعنی، اور زمین میں جتنے قسم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader