تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
کے جانور ہیں اور جتنے قسم کے پرند ہیں وہ سب تمہاری ہی طرح کے گروہ ہیں۔ ہم نے نہیں چھوٹی لکھنے میں کوئی چیز۔ پھر سب اپنے رب کے پاس جمع کیے جائیں گے۔ یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ کہ انسان یا تمام جان داروں کا ایک ”حشر“ ہونے والا ہے۔ اس حشر سے دو چیزیں مراد لی گئی ہیں۔ بعض مفسرین نے موت مراد لی ہے اور بعض نے قیامت۔ دونوں صورتوں میں مطلب یہی ہے کہ تمام مخلوقات خدا کی طرف سمیٹی جانے والی ہیں۔ مگر اس سے جو سمٹاؤ مراد ہے وہ وہی ہے جو موت کے بعد پیش آئے گا۔ موت سے پہلے کے سمٹاؤ کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔ پانچویں آیت یہ ہے : وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ (36:51)۔ یعنی، اور جوں ہی صور پھونکا گیا وہ سب اپنی قبروں سے اپنے رب کی طرف نکل پڑیں گے۔ یہ آیت بھی ظاہر ہے آخرت سے متعلق ہے۔ اس میں اُس اجتماع کا ذکر ہے جب لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اپنی قبروں سے اُٹھ کر خدا کے حضور جمع کیے جائیں گے۔ میدانِ حشر کے اس اجتماع سے سماجی زندگی کے لیے مرکزِ اجتماع کا مفہوم نکالنا ایسا ہی ہے جیسے ”قرآنی نظامِ ربوبیت“ کے علم بردار جنت کی زندگی سے متعلق آیتوں (مثلاًط، 119-20:118) کو پیش کر کے اس سے کھیت اور کارخانوں کی ریاستی ملکیت کا اصول ثابت کرتے ہیں۔ اس تمہید کے بعد میں چاروں اصطلاحات کا الگ الگ جائزہ لوں گا۔ الہ سب سے پہلا لفظ الہ ہے۔ (ا ل ہ) کا مادہ عربی زبان میں ایک ایسی کیفیت کے لیے بولا جاتا ہے جس میں حیرت کے ساتھ لپک اور اشتیاق پایا جاتا ہو: أَلِهَ يَأْلَهُ إِذَا تَحَيَّرَ (لسان العرب، جلد 13، صفحہ 467) أَلَهَهُ: أَجَارَهُ، وَآمَنَهُ (القاموس المحيط، صفحہ 1242) أَلِهَ الْفَصِيلُ إِذَا وَلِعَ بِأُمِّهِ (تفسیر البیضاوی، جلد 1، صفحہ 26)۔ اس لحاظ سے الہ وہ ہے جس کے بارے میں حیرت انگیز طور پر اپنے سے مختلف ہونے کا تصور ہو، جس کو آدمی اپنا پناہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader