الٰہ
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
دہندہ سمجھے، جس کی طرف وہ شدت شوق سے لپکتا ہو۔ یہ لفظ دراصل اس گہرے جذبہ کا ترجمان ہے، جو ایک بندۂ مجبور کے دل میں اپنے خالق و مالِک کے لیے ہونا چاہیے ۔ ایک عاجز اور مشتاق انسان کے مخصوص جذبات جب کسی ہستی کو اپنا مرکزِ توجہ بنا لیتے ہیں ، جب وہ اس پر بھروسہ کرنے لگتا ہے اور اسی سے اپنی ساری امیدیں وابستہ کر لیتا ہے تو ایسے شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے فلاں ہستی کو اپنا الہٰ بنا لیا۔ الوہیت کا یہ تصور لازمی طور پر تقاضا کرتا ہے کہ جس کو الہٰ قرار دیا جائے وہ با اقتدار بھی ہو ۔ کیوں کہ جو ہستی اقتدار نہ رکھتی ہو وہ حاجت روائی اور پناہ دہندگی کا کام انجام نہیں دے سکتٰی۔ قرآن جب بتوں اور ارواح کی الوہیت کا انکار کرتا ہے تو اس کی خاص دلیل یہی ہوتی ہے کہ وہ ان اختیارات کی سرے سے مالک ہی نہیں جو الہٰ بننے کے لیے درکار ہیں۔ پہلی بات الہٰ کا اصل مفہوم ہے اور دوسری بات الہٰ کے اصل مفہوم کا تقاضا۔ کتاب میں لغوی تحقیق کی حد تک الہٰ کے اصل مفہوم کو تسلیم کیا گیا ہے (صفحہ 10)۔ مگر اس کے بعد اس کے مختلف ”معانی“ کی فہرست بندی کرتے ہوئے اصل مفہوم اور اس کے تقاضے کے فرق کو نظر انداز کر کے سب کو اس طرح یکجا کر دیا گیا: ” پس معلوم ہوا کہ معبود کے لیے الہٰ کا لفظ جن تصورات کی بنا پر بولا گیا وہ ہیں : حاجت روائی ، پناہ دہندگی ، سکون بخشی ، بالاتری و بالا دستی ، ان اختیارات اور ان طاقتوں کا مالک ہونا جن کی وجہ سے یہ توقع کی جائے کہ معبود قاضی الحاجات اور پناہ دہندہ ہو سکتا ہے، اس کی شخصیت کا پر اسرار ہونا یا منظر عام پر نہ ہونا، انسان کا اس کی طرف مشتاق ہونا“۔ (صفحہ 11) اس تشریح میں بالا دست اور با اختیار ہونے کا تصور جو درمیان میں شامل کیا گیا ہے وہ حقیقی الہٰ کا تقاضا ہے، وہ الہٰ کا لغوی مفہوم نہیں ہے۔ یعنی الہٰ کے لغوی معنی با اقتدار ہونے کے نہیں ہیں بلکہ الوہیت کی مستحق دراصل وہی ذات ہو سکتی ہے جو اقتدار و اختیار رکھتی ہو۔ چونکہ زیرِ بحث

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader