Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہن اقتدار کے تصور کو اس قسم کے "تقاضے" کے طور پر دیکھنا پسند نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے اس نے اصل اور تقاضے کے اس فرق کو نظر انداز کر کے سب کو ایک ہی فہرست میں یکساں حیثیت سے شامل کر دیا۔ مگر اس کی تسکین کے لیے صرف اتنی بات بھی کافی نہیں تھی کہ الہٰ کی فہرست میں اقتدار واختيار کا تصور کسی نہ کسی طرح آجاۓ۔ اس کی تسکین تو اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ یہی مفہوم اصل اور بنیاد کی حیثیت سے ثابت ہو جائے۔ چنانچہ آگے چل کر اس نے اس پورے مفہوم کو الٹ دیا۔ اور اقتدار کو الہٰ کا اصل مفہوم قرار دے کر اس کے تمام تقاضوں کو اس مرکزی مفہوم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ حالانکہ الہٰ کا اصل مفہوم اشتیاق اور پناہ دہندگی ہے اور بقیہ تمام مطالب اسی اصل سے جڑتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ان سطروں کو پڑھیے جو الہٰ کے مختلف پہلوؤں کی تشریح کرنے کے بعد "الوھیت کے باب میں ملاک امر" کے عنوان کے تحت کتاب میں درج ہیں : "الہٰ کے یہ جتنے مفہومات اوپر بیان ہوئے ہیں ان سب کے درمیان ایک منطقی ربط ہے۔ جو شخص فوق الطبیعی معنی میں کسی کو حامی و مددگار، مشکل کشا اور حاجت روا ، دعاؤں کا سننے والا اور نفع یا نقصان پہنچانے والا سمجھتا ہے، اس کے ایسا سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک وہ ہستی نظام کائنات میں کسی نہ کسی نوعیت کا اقتدار رکھتی ہے۔ اسی طرح جو شخص کسی سے تقویٰ اور خوف کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ناراضی میرے لیے نقصان کی اور رضا مندی میرے لیے فائدے کی موجب ہے، اس کے اس اعتقاد اور اس عمل کی وجہ بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اپنے ذہن میں اس ہستی کے متعلق ایک طرح کا اقتدار رکھتا ہے، پھر جو شخص خداوند اعلیٰ کے ماننے کے باوجود اس کے سوا دوسروں کی طرف اپنی حاجات کے لیے رجوع کرتا ہے، اس کے اس فعل کی علت بھی صرف یہی ہے کہ خداوندی کے اقتدار میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page