Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ ان کو کسی نہ کسی طرح کا حصہ دار سمجھ رہا ہے... پس الوہیت کی اصل روح اقتدار ہے۔(صفحہ 17) دیکھیے، یہاں بات بالکل الٹ گئی۔ الوہیت کی اصل روح اشتیاق اور احتیاج کے جذبے کے تحت کسی طرف لپکنا تھا اور اقتدار کا تصور اس میں اس لحاظ سے شامل ہوا تھا کہ اس قسم کی لپک کسی ایسی ہی ہستی کی طرف صحیح ہے جو با اقتدار ہونے کی وجہ سے فی الواقع اس کی مستحق ہو۔ مگر مندرجہ بالا تشریح میں بات یہ ہو گئی کہ الوہیت کی اصل روح اقتدار ہے اور بقیہ تمام مفہومات اصل سے اس میں پیدا ہوئے ہیں۔ یعنی الہ کے مختلف متعلقہ مفہومات کے درمیان ”منطقی ربط“ جس بنیاد پر قائم کیا گیا وہ لفظ الہ کا اصل مفہوم نہیں تھا، بلکہ اس کا ایک تقاضا تھا جو اصل مفہوم کی مناسبت سے اس میں پیدا ہوتا ہے۔ ”منطقی ربط“ کی اس بنیاد کے بارے میں مصنف نے قرآن کی ایک درجن سے زیادہ آیتیں بطور شہادت پیش کی ہیں اور اس کے بعد لکھتے ہیں: ”ان تمام آیات میں اول سے آخر تک ایک ہی مرکزی خیال پایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ الوہیت اور اقتدار لازم و ملزوم ہیں اور اپنی روح و معنی کے اعتبار سے دونوں ایک ہی چیز ہیں۔“(صفحہ 23) مگر ان تمام آیتوں میں الہ کے ساتھ اقتدار و اختیار کا ذکر خدا کے الہ صحیح ہونے کے لیے بطور دلیل آیا ہے، نہ کہ یہ بتانے کے لیے کہ—”الہیّت واقتدار اپنی روح و معنی کے اعتبار سے ایک ہیں۔“- میں صرف ایک آیت نقل کروں گا: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (3:3)—یعنی، لوگو! تمہارے اوپر اللہ کا جو احسان ہے اس کو یاد کرو، کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو آسمان و زمین میں سے رزق دیتا ہو، اس کے سوا کوئی الہ نہیں پھر تم کدھر بھٹکے جا رہے ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page