الٰہ
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
ظاہر ہے کہ اس طرح کی آیتوں میں الٰہ کے ساتھ اقتدار کا ذکر اس حیثیت سے نہیں ہے کہ ــــ الہیت اور اقتدار لازم و ملزوم ہیں اور اپنی روح و معنی کے اعتبار سے دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ بلکہ ایسی تمام آیتوں میں اقتدار کا ذکر اللہ رب العزت کے الٰہ حقیقی ہونے کے بارے میں بطور استدلال ہے۔ یعنی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ”الہٰ کے معنی با اقتدار ہونے کے ہیں۔ اس لیے ایسی ہستی کو الٰہ کے لفظ سے کیوں موسوم کرتے ہو جو اقتدار نہیں رکھتی“ بلکہ بات یوں ہے کہ ”جن توقعات کی بنیاد پر کسی کو الٰہ بنایا جاتا ہے، وہ توقعات کوئی ایسی ہستی ہی پوری کر سکتی ہے جو عالم اسباب پر اقتدار رکھنے والی ہو۔ اور چونکہ یہ اقتدار اسارا کا سارا صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے حقیقتاً وہی ذات اس کی مستحق ہے کہ اس کو الٰہ قرار دیا جائے“۔ دوسرے لفظوں میں یہاں بات دراصل احتیاج کی نسبت سے کہی گئی ہے، نہ کہ اقتدار کی نسبت سے۔ مگر اب بھی بات نہیں بنی تھی۔ کیوں کہ زیر بحث ذہن کو اولین دل چسپی جس چیز سے ہے وہ سیاسی اقتدار ہے، جبکہ ”منطقی ربط“ کی اس تبدیلی کے باوجود جو بات ثابت ہوئی وہ صرف فوق الفطری اقتدار ہے، الٰہ سے متعلق جن امور کی وجہ سے اقتدار کے تصور کو اس کے براہ راست مفہوم میں شامل کیا گیا ہے، وہ سب امور وہ ہیں جن کا قانونی اور سیاسی اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔ دعا کا سننا، حاجتیں پوری کرنا، مشکلات میں مدد دینا، نفع نقصان پہنچانا ــــ یہ سب وہ کام ہیں جن کو انجام دینے کے لیے کائناتی اقتدار کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے وہ طاقت درکار ہے جو عالم اسباب پر حکومت کر رہی ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ اقتدار فوق الطبیعی معنوں میں ہے۔ اور محض فوق الطبیعی اقتدار سے زیر بحث انقلابی ذہن کا کام نہیں بن سکتا تھا۔ اب ذہن نے ایک اور کام کیا۔ اس نے ”اقتدار“ کے لفظی اشتراک سے فائدہ اٹھا کر فوق الفطری اقتدار کے ساتھ سیاسی اور تمدنی اقتدار کا قافیہ بھی اس میں شامل کر دیا۔ یہ بتاتے ہوئے کہ جو شخص فوق الفطری معنی میں کسی کو الٰہ بناتا ہے، اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اس کے متعلق اقتدار و اختیار کا تصور رکھتا ہے۔ لکھتے ہیں:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader