الٰہ
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
”اور علیٰ ہذا القیاس وہ شخص جو کسی کو قانون اور کسی کے امر و نہی کو اپنے لیے واجب الا طاعت قرار دیتا ہے، وہ بھی اس کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کرتا ہے۔ پس الوہیت کی اصل روح اقتدار ہے۔ خواہ وہ اقتدار اس معنی میں سمجھا جائے کہ نظام کائنات پر اس کی فرماں روائی فوق الطبیعی نوعیت کی ہے، یا وہ اس معنی میں تسلیم کیا جائے کہ دنیوی زندگی میں انسان اس کے تحت امر ہے اور اس کا حکم بذات خود واجب الاطاعت ہے“ (صفحہ 17)۔ اس استدلال میں قافیہ بندی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں۔ سیاسی اور تمدنی زندگی میں خدا کی اطاعت بے شک عقیدہ الہٰ کا ایک ضروری تقاضا ہے۔ مگر اس کو الہٰ کا براہ راست معنی قرار دینا اور یہ کہنا کہ اس کا دوسرا برابر کا مفہوم ”سیاسی اور تمدنی الوہیت“ ہے، صحیح نہیں۔ پھر کیسے اتنے وثوق کے ساتھ الوہیت کے مفہوم ثانی کا دعویٰ کر دیا گیا، اس سمجھنے کے لیے درج ذیل اقتباس پڑھیے: ”اقتدارِ اعلیٰ کی وحدانیت کا اقتضا یہ ہے کہ حاکمیت اور فرماں روائی کی جتنی قسمیں ہیں، سب ایک ہی مقتدرِ اعلیٰ کی ذات میں مرکوز ہوں، اور حاکمیت کا کوئی جزء بھی کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ ہو۔ جب خالق وہ ہے اور خلق میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ، جب رازق وہ ہے اور رزق رسانی میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں۔ جب پورے نظامِ کائنات کا مدبر و منتظم وہ ہے، اور تدبیر و انتظام میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں تو یقیناً حاکم و آمر اور شارع بھی اسی کو ہونا چاہیے۔ اور اقتدار کی اس شق میں بھی کسی کے شریک ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ جس طرح اس کی سلطنت کے دائرے میں اس کے سوا کسی دوسرے کا فریاد رس اور حاجت روا اور پناہ دہندہ ہونا غلط ہے۔ اسی طرح کسی دوسرے کا مستقل بالذات حاكم اور خود مختار فرماں روا اور آزاد قانون ساز ہونا بھی غلط ہے۔ تخلیق اور رزق رسانی ، احیاء اور امامت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader