الٰہ
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
تسخیر شمس و قمر اور تکویر لیل و نہار، قضاء اور قدر، حکم اور بادشاہی، امر اور تشریع سب ایک ہی کلی اقتدار و حاکمیت کے مختلف پہلو ہیں۔ اور یہ اقتدار و حاکمیت ناقابل تقسیم ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو واجب الاطاعت سمجھتا ہے تو وہ ایسا ہی شرک کرتا ہے جیسا ایک غیر اللہ سے دعا مانگنے والا شرک کرتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص سیاسی معنی میں مالک الملک اور مقتدر اعلیٰ اور حاکم علی الاطلاق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ بالکل اسی طرح خدائی کا دعویٰ ہے، جس طرح فوق الطبیعی معنی میں کسی کا یہ کہنا کہ تنہا راولی و کارساز اور مددگار و محافظ میں ہوں۔ اسی لیے جہاں خلق اور تقدیر اشیاء اور تدبیر کائنات میں اللہ کے شریک ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، وہیں لَهُ الحُكمُ ، اور لَه الملكُ ، و لم يَكُن لَهُ شَرِيكٌ في المُلكِ بھی کہا گیا ہے۔ جو اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ الوہیت کے مفہوم میں بادشاہی و حکمرانی کا مفہوم بھی شامل ہے۔ اور توحید الہ کے لیے لازم ہے کہ اس مفہوم کے اعتبار سے بھی اللہ کے ساتھ کسی کی شرکت تسلیم کی جائے۔‘‘ (صفحہ 25-24) اس اقتباس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”اقتدار اور حاکمیت ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کائنات پر جس کا اقتدار ہے، اسی کا اقتدار انسان کی تمدنی اور سیاسی زندگی پر بھی قائم ہو۔“ مگر یہ بات ان آیتوں سے نہیں نکلتی جن کا حوالہ دے کر اسے پیش کیا گیا ہے۔ قرآن میں بیشک یہی بات کہی گئی ہے کہ اقتدار نا قابل تقسیم ہے مثلاً درج ذیل آیت جو اس سلسلے میں کتاب کے اندر نقل کی گئی ہے: لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ (21:22)۔ یعنی، اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اور بھی الہ ہوتے تو نظام عالم درہم برہم ہو جاتا، پس اللہ عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے۔ مگر اس طرح کی آیتوں میں اقتدار اعلیٰ کے نا قابل تقسیم ہونے کی بات انتظام کائنات یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader