الٰہ
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے لفظوں میں فوق الطبیعی پہلو سے ہے، نہ کہ ان معنوں میں کہ جو الہ کا کائنات کا مقتدر اعلیٰ ہے۔ اسی کو سیاسی دائرہ میں بھی مقتدر اعلیٰ ہونا چاہیے۔ یعنی ان آیات میں اس حقیقت کا ذکر کر کے کائنات کے ہر حصہ اور اس کے ہر جزء پر ایک ہی اللہ کا اقتدار قائم ہے، اس میں یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ جس خدا کی حاکمیت عالم تکوینی میں قائم ہے، اسی کی حاکمیت عالم تشریعی میں بھی قائم ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ انسان کے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ وہ اپنی سیاسی اور قانونی زندگی میں بھی خدا ہی کو اپنا حاکم بنائے۔ مگر اس آیت میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اس استدلال کی دوسری خاص بنیاد، جو اقتباس کے آخری حصہ سے معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ الہ سے متعلق آیتوں میں بعض مقامات پر لہ الحكم، لہ الملك اور ولم يكن له شريك في الملك کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ مگر ان الفاظ کا یہ مفہوم خود آیات کے اندر موجود نہیں ہے، بلکہ اصل الفاظ کے لغوی معنی کے ساتھ اپنے خود ساختہ تصور کو شامل کر کے نکال لیا گیا ہے۔ کیوں کہ ان الفاظ کے لغوی معنی اگرچہ حکم اور اقتدار ہی کے ہیں۔ مگر جن آیتوں میں یہ الفاظ آئے ہیں، وہاں ان کا مطلب سیاسی اور تمدنی اقتدار نہیں ہے، بلکہ وہی فوق الفطری اقتدار ہے، جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کتاب میں تین آیتیں نقل کی گئی ہیں، پہلی آیت سورۂ قصص کی ہے جس میں لہ الحكم کا لفظ آیا ہے، اور اس کا ترجمہ کتاب میں ”صاحب حکم واقتدار“ کیا گیا ہے (صفحہ 19)۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے پورا متعلقہ ٹکڑا نقل کر دیا جائے۔ سورۂ قصص کی ساتویں رکوع میں یہ بتاتے ہوئے کہ قیامت میں جب تمام انسان حاضر کیے جائیں گے تو وہ لوگ جنھوں نے خدا کا شریک ٹھہرایا تھا وہاں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا، ارشاد ہوا ہے: وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ. وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ. وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (28:68-70)۔ یعنی، تیرا رب جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے، ان کو اس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader