Urdu book · تعبیر کی غلطی

گفتگو اور خط و کتابت

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

گفتگو اور خط و کتابت افراد جماعت سے عام تبادلۂ خیال جماعت اسلامی سے پندرہ سال متعلق رہنے کے بعد 1962ء کے آخر میں میں نے اس سے استعفیٰ دے دیا۔ 15 اکتوبر 1962ء کو میں نے اپنا استعفیٰ روانہ کیا تھا جو چھ مہینے بعد قیم جماعت کے خط مورخہ 25 اپریل 1963ء کے مطابق منظور کر لیا گیا۔ یہ علحدگی اچانک عمل میں نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے کشمکش کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ جہاں تک ان فکری اسباب کا تعلق ہے جو مجھ کو اس انتہائی فیصلے تک لے گئے ان کا مطالعہ آپ اگلے صفحات میں کریں گے، یہاں میں گفتگو اور خط و کتابت کی وہ روداد مختصر طور پر درج کرنا چاہتا ہوں جو اس فیصلے سے پہلے تقریباً چار سال تک جاری رہی تا کہ آپ اصل واقعہ کے پورے پس منظر کو سمجھ سکیں۔ میں تقسیم ہند کے بعد نومبر 1947ء میں جماعت اسلامی کی تحریک سے متاثر ہوا اور تقریباً دس سال تک یکسوئی کے ساتھ اس سے مل کر کام کرتا رہا۔ یہ وقت تھا جب کہ اس کے بہت سے دیگر افراد کی طرح میں یہ سمجھتا تھا کہ مجھ کو آخری صداقت کا علم ہو گیا ہے۔ اس زمانے میں میں زیادہ تر جماعت کے عملی کاموں میں مشغول رہا، اور جماعت کے مخصوص لٹریچر کے علاوہ دیگر چیزوں کے مطالعے کی طرف بہت کم توجہ دے سکا۔ اس کے بعد ایک ایسا وقت آیا جب بعض اسباب نے مجھے یکسوئی کے ساتھ مطالعے کے مواقع فراہم کر دیے۔ خاص طور پر دو سال کا بیشتر وقت میں نے قرآن کو پڑھنے اور اس کے مطالب پر غور و فکر کرنے پر صرف کیا، اس وقت پہلی بار میں نے محسوس کیا کہ اس فکر پر میرا یقین متزلزل ہو رہا ہے، قرآن کے مطالعے کے دوران میں شدت سے مجھ پر یہ احساس طاری ہوا کہ قرآن میرے اس تصور دین کی تصدیق نہیں کر رہا ہے، جسے کو میں اب تک اسلام کا صحیح ترین تصور سمجھ رہا تھا۔ خوش قسمتی سے اس زمانے میں جماعت اسلامی کے شعبۂ تصنیف و تالیف سے متعلق ہونے کی وجہ سے میں جماعت کے مرکزی دفتر (رام پور) میں مقیم تھا، اور اسی کے ساتھ جوں کہ میں اس کی مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن تھا، اس لیے جماعت کے انتہائی منتخب افراد سے ملنے جلنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page