الٰہ
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
اختیار نہیں یہ جو شریک ٹھہراتے ہیں خدا اس سے پاک و برتر ہے، اور تیرا رب ان کے چھپے اور کھلے کو جانتا ہے، وہی اللہ ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، دنیا و آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور اسی کے لیے حکم (فیصلہ) ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ یہ پورا سیاق بتا رہا ہے کہ یہاں تمدنی اور سیاسی اقتدار کے ذکر کا کوئی موقع نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’حکم‘‘ کا لفظ یہاں قضا اور فیصلہ کے معنی میں آیا ہے اور اس سے مراد یا تو وہ فیصلہ ہے جو دنیا میں فوق الفطری طور پر تمام اشیاء پر نافذ ہوتا ہے، یا وہ فیصلہ جو آخرت میں بندوں کے درمیان نافذ ہوگا، مفسرین دونوں طرف گئے ہیں، مگر اکثریت دوسری تاویل کے حق میں ہے۔ چند رائےیں یہ ہیں : ٭ ’’وَلَهُ الْحُكْمُ‘‘ يَقُولُ : وَلَهُ الْقَضَاءُ بَيْنَ خَلْقِهِ ( تفسیر ابن جریر، جلد 19، صفحہ 612 ) ٭ أَيْ الْقَضَاءُ بَيْنَ عِبَادِهِ وَالْفَضْلُ ( تفسیر البحر المحیط، جلد 8، صفحہ 321 ) ٭ الْقَضَاءُ بَيْنَ عِبَادِهِ ( الکشاف للزمخشری، جلد 3، صفحہ 428 ) ٭ يَحْكُمُ لِأَهْلِ طَاعَتِهِ بِالْمَغْفِرَةِ، وَلِأَهْلِ الْمَعْصِيَةِ بِالشَّقَاوَةِ ( تفسیر الخازن، جلد 3، صفحہ 370 ) ٭ الْقَضَاءُ بَيْنَ عِبَادِهِ ( مدارک التنزيل، جلد 2، صفحہ 655 ) ٭ أَيْ : الْقَضَاءُ النَّافِذُ فِي كُلِّ شَيْءٍ مِنْ غَيْرِ مُشَارَكَةٍ فِيهِ لِغَيْرِهِ تعالى ( روح المعانی للآلوسی ، جلد 10، ص 313 ) ٭ الْقَضَاءُ النَّافِذُ فِي كُلِّ شَيْءٍ ( تفسیر البیضاوی، جلد 4، صفحہ 184 ) لہ حکم سے فیصلہ آخرت مراد لینے کی رائے کو اس لیے ترجیح حاصل ہے کہ مشہور صحابی مفسر حضرت عبداللہ بن عباس سے یہی منقول ہے : وعن ابن عبّاس : أی لہ الحكمُ بین عبادِہ تعالی، فیحکمُ لأہلِ طاعتِہ بالمغفرةِ والفضلِ، ولأہلِ معصیتِہ بالشّقاءِ والویل ( روح المعانی للآلوسی،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader