Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

جلد 10، صفحہ 313)۔ یعنی ، عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ لہ الحکم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی کو اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کا حق ہے۔ وہ اپنے فرمانبردار بندوں کے لیے مغفرت اور انعام کا فیصلہ کرتا ہے اور نافرمانوں کے لیے بدبختی اور ہلاکت کا۔ دوسری آیت سورہ زمر کی ہے، اور اس میں لہ الملک کا لفظ آیا ہے، اس کا ترجمہ کتاب میں ”اقتدارِ حکومت“ کیا گیا ہے۔ سورہ کے شروع میں ان ”اولیاء“ کی عبادت پر تنقید ہے، جن کی مشرکین یہ سمجھ کر عبادت کرتے تھے کہ وہ ان کو خدا کا مقرب بنا دیں گے، اور اس عقیدہ کی تردید کی گئی ہے کہ خدا کی کوئی اولاد ہے، جس کا زمین و آسمان کے اختیارات میں کوئی دخل ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے : خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۗ أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ . خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۚ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ۚ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۖ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ (39:5-6)۔ یعنی، اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے۔ اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے ، ہر ایک اپنی مدت مقررہ تک چل رہا ہے۔ آگاہ، وہ زبردست ہے بخشنے والا ہے۔ اس نے ایک جان سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا، اور تمہارے لیے مویشیوں کے آٹھ جوڑے اتارے، وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بتدریج تین اندھیروں میں بناتا ہے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے اسی کا ہے اقتدار، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، پھر تم کہاں پھیرے جاتے ہو۔ یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہاں ملک (اقتدار) سے مراد وہ اقتدار ہے جو سورج اور چاند کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page