Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

گردش دے رہا ہے، جو خلق اور تدبیر کا مالک ہے، نہ کہ سیاسی اور تمدنی اقتدار۔ چنانچہ مفسرین نے یہی مفہوم لیا ہے۔ میں امام رازی کے الفاظ نقل کروں گا: ثُمَّ قَالَ تَعَالَى: لَهُ الْمُلْكُ وَهَذَا يُفِيدُ الْحَصْرَ أَيْ لَهُ الْمُلْكُ لَا لِغَيْرِهِ، وَلَمَّا ثَبَتَ أَنَّهُ لَا مِلْكَ إِلَّا لَهُ وَجَبَ الْقَوْلُ بِأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لِأَنَّهُ لَوْ ثَبَتَ إِلَهُ آخَرُ، فَذَلِكَ الْإِلَهُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ الْمُلْكُ أَوْ لَا يَكُونَ لَهُ الْمُلْكُ، فَإِنْ كَانَ لَهُ الْمُلْكُ فَحِينَئِذٍ يَكُونُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَالِكًا قَادِرًا وَيَجْرِي بَيْنَهُمَا التَّمَانُعُ كَمَا ثَبَتَ فِي قَوْلِهِ: لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا (21:22) وَذَلِكَ مُحَالٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِلثَّانِي شَيْءٌ مِنَ الْقُدْرَةِ وَالْمُلْكِ فَيَكُونُ نَاقِصًا وَلَا يَصْلُحُ لِلْإِلَهِيَّةِ، فَثَبَتَ أَنَّهُ لَمَّا دَلَّ الدَّلِيلُ عَلَى أنه لا ملك إلا الله، وَجَبَ أَنْ يُقَالَ لَا إِلَهَ لِلْعَالَمِينَ وَلَا مَعْبُودَ لِلْخَلْقِ أَجْمَعِينَ إِلَّا اللَّهُ الْأَحَدُ الْحَقُّ الصَّمَدُ (التفسیر الکبیر، جلد 26، صفحہ 425)۔ یعنی، پھر فرمایا ”لہ الملک“، اس سے حصر کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، یعنی اقتدار صرف اسی کا ہے، کسی اور کا نہیں اور جب ثابت ہو گیا کہ اقتدار اس کے سوا کسی کا نہیں ہے تو یہ کہنا لازم ہو گیا کہ لا الہ ہو، کیوں کہ اگر کوئی دوسرا الہ ہوتا تو وہ اقتدار کا مالک ہوتا یا اس کے پاس کوئی اقتدار نہ ہوتا۔ پس اگر اس کے پاس اقتدار ہوتا تو مختلف اقتدار باہم ٹکرا جاتے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا معبود ہوتے تو دونوں درہم برہم ہو جاتے (21:22)، اور یہ ناممکن ہے۔ اور اگر دوسرے الہ کے پاس کوئی اقتدار نہ ہو تو وہ ناقص ہے اور اس کو الہ قرار دینا صحیح نہیں ہو سکتا۔ پس جب دلیل سے ثابت ہو گیا کہ اللہ کے سوا کسی کے پاس اقتدار نہیں تو یہ کہنا ضروری ہوا کہ دنیا کا اور تمام مخلوقات کا صرف ایک الہ اور معبود ہے، اس کے سوا کوئی اور الہ اور معبود نہیں۔ تیسری آیت سورہ فرقان کی ہے اور اس میں لم یکن لہ شریک فی الملک کے الفاظ آئے ہیں۔ اس کا ترجمہ کتاب میں ”اقتدار حکومت میں اس کا کوئی شریک نہیں“ کیا گیا ہے۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page