Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں بھی تمدنی اور سیاسی حکمرانی کا کوئی موقع نہیں۔ آیت کا متعلقہ ٹکڑا حسب ذیل ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيراً - اَلَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَداً وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً۔ وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئاً وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرّاً وَلَا نَفْعاً وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُوراً (25:1-3)۔ یعنی، بڑا بابرکت ہے وہ جس نے اپنے بندہ پر کتاب فرقان اتاری تا کہ وہ دنیا والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ جس کی سلطنت ہے آسمان و زمین میں اور اس نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ سلطنت میں کوئی اس کا ساتھی ہے۔ اس نے ہر چیز بنائی پھر اس کی تقدیر کی اور لوگوں نے اس کے علاوہ الہ بنا لیے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے ، وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہیں وہ اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ نہ موت وحیات کے مالک ہیں نہ دوبارہ جی اٹھنے کے۔ یہ سیاق بتا رہا ہے کہ یہاں ”ملک“ کو خدا کے لیے جن معنوں میں خاص کرنے کا ذکر ہے وہ سیاست اور تمدن نہیں بلکہ تخلیق، نفع نقصان، تقدیر اشیاء اور موت وحیات کے اختیار ات ہیں۔ چنانچہ مفسرین نے یہی مفہوم لیا ہے۔ میں ایک حوالہ نقل کرتا ہوں: مَا فِيهِمَا مِلْكٌ لَهُ، أَخْبَرَ هُنَا أَنَّهُ لَهُ مُلْكُهُمَا أَي قَهْرَهُمَا وَقَهْرَ مَا فِيهِمَا، فَاجْتَمَعَ لَهُ الْمُلْكُ وَالْمُلْكَ لَهُمَا. وَلِمَا فِيهِما ... وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ تَأْكِيدٌ لِقَوْلِهِ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَدٌّ عَلَى مَنْ جَعَلَ لِلَّهِ شَرِيكاً (البحر المحیط في التفسير، جلد 8، صفحہ 80)۔ یعنی، زمین و آسمان اور اس کی تمام چیزیں اس کی مقہور ہیں۔ پس وہی مالك ہے اور اسی کا اقتدار سب کے اوپر ہے۔ اس کے بعد لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ کا فقرہ اسی پہلے فقرہ کی تاکید ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page