Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے اور ان لوگوں کی تردید ہے جنھوں نے خدا کے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں۔ ان تینوں آیتوں کے علاوہ بحث کے آخر میں ہم کو مزید چار آیتیں ملتی ہیں، جن میں مصنف کے نزدیک ’’زیادہ کھول کر‘‘ اور ’’زیادہ تصریح‘‘ کے ساتھ یہ بات بیان کی گئی ہے کہ ’’الوہیت کے مفہوم میں بادشاہی و حکمرانی کا مفہوم بھی شامل ہے‘‘ (صفحہ 26-25) پہلی آیت حسب ذیل ہے: قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (3:26)۔ یعنی، کہو خدایا! ملک کے مالک، تو جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک لے لیتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ تیرے ہی اختیار میں ہے سب بھلائی۔ بلاشبہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ مجھے تسلیم ہے کہ اس آیت میں ’’ملک‘‘ کا لفظ دنیوی اقتدار کے معنی میں آیا ہے۔ مگر کیا محض ’’دنیوی اقتدار‘‘ کا لفظ کسی فقرے میں آجانا زیر بحث تصور کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس آیت سے جو بات نکلتی وہ صرف یہ ہے کہ اللہ ہی اپنے بالا تر اختیارات کے ذریعہ دنیا کی حکومت جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے ۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے یہ تو ہر مسلمان کا عقیدہ ہے۔ مگر اس سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ اقتدار کا عطیہ خداوندی ہونا ہے، نہ کہ حصول اقتدار کا امت مسلمہ کا مشن ہونا۔ دوسری آیت یہ ہے: فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ (23:116)۔ یعنی، پس بزرگ ہے اللہ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page