الٰہ
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت سے بھی جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ صرف فوق الفطری الوہیت ہے۔ آیت کا آخری فقرہ صاف طور پر بتا رہا ہے کہ یہاں جس چیز کا ذکر ہے وہ عرش بریں کا مالک ہونا ہے، نہ کہ تخت سیاسی کا مالک ہونا۔ سیاسی تخت یا سیاسی حکمرانی کا مسئلہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ مگر اس آیت میں یہ مسئلہ مذکور نہیں۔ آیت کے پہلے فقرے میں ’’ملک‘‘ کا لفظ ہے جس کے معنی بادشاہ کے ہوتے ہیں۔ مگر آگے پیچھے کے تمام قرائن بتا رہے ہیں کہ یہاں یہ لفظ ’’سیاسی بادشاہ‘‘ کے مفہوم میں نہیں آیا ہے۔ بلکہ بادشاہ کا ئنات یا مالک کائنات کے معنی میں آیا ہے۔ دو حوالے یہاں نقل کیے جاتے ہیں: اَلْمَلِكُ هُوَ الْمَالِكُ لِلْأَشْيَاءِ الَّذِي لَا يَبِيدُ وَلَا يَزُولُ مُلْكُهُ وَقُدْرَتُهُ (التفسیر الکبیر، جلد 23، صفحہ 300)۔ یعنی، اس آیت میں ملک کا لفظ تمام اشیاء کا مالک ہونے کے معنی میں آیا ہے جس کی قدرت اور مالکیت کبھی زائل نہیں ہوتی۔ اَلْمَلِكُ الْحَقُّ، أَيْ الْحَقِيقُ بِالْمَالِكِيَّةِ عَلَى الْإِطْلَاقِ إِيجَادًا وَإِعْدَامًا، بَدْءًا وَإِعَادَةً، إِحْيَاءً وَإِمَاتَةً، عِقَابًا وَإِثَابَةً، وَكُلُّ مَا سِوَاهُ مَمْلُوكٌ لَهُ مَقْهُورٌ تَحْتَ مَلَكُوتِيَّتِهِ (تفسیر روح المعانی، جلد 9، صفحہ 269)۔ یعنی، ملک الحق کا مطلب یہ ہے کہ خدا ہی علی الاطلاق مالک ہونے کا حقدار ہے، وہی وجود دیتا ہے اور ختم کرتا ہے، وہی آغاز کرتا ہے اور وہی دہراتا ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، وہی عذاب دیتا ہے اور وہی ثواب دیتا ہے، اور اس کے سوا جو کچھ ہے سب اس کے مقہور ہیں اور اس کے اقتدار کے تحت ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام صفات فوق الفطری نوعیت کی ہیں، نہ کہ سیاسی اور تمدنی نوعیت کی۔ اس لیے اس آیت سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں الہٰ کا لفظ سیاسی اور تمدنی حکمراں کے معنی میں آیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader