الٰہ
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
تیسری آیت یہ ہے: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ مَلِكِ النَّاسِ۔ إِلَهِ النَّاسِ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ۔ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (114:1-6)۔ یعنی، کہو میں پناہ لیتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے الہ کی ، وسوسہ ڈالنے والے شیطان کے شر سے۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ (وسوسہ ڈالنے والا) جن ہو یا آدمی۔ یہ تعوذ کی سورہ ہے۔ یعنی اس میں ان جنوں اور انسانوں سے اور ان چھپے ہوئے شیاطین سے خدا کی پناہ چاہی گئی ہے، جو آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے وسوسوں سے پناہ دینے کا” سیاسی اور تمدنی حکمرانی “سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو صریح طور پر ایک ایسی ہستی کا کام ہے، جو اپنے فوق الفطری ذرائع سے جنات اور انسان پر قابو یافتہ ہو، اور دلوں تک جس کی رسائی ہو۔ اس سورت میں ایک ایسی ہی ہستی کا تصور دلا کر اس سے پناہ مانگنا سکھایا گیا ہے۔ اس میں الہ کے مزعومہ سیاسی پہلو کا کوئی ذکر نہیں۔ ابن کثیر ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: هَذِهِ ثَلَاثُ صِفَاتٍ مِنْ صِفَاتِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ : الرُّبُوبِيَّةُ، وَالْمُلْكُ، وَالْإِلَهِيَّةُ. فَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكُهُ وَإِلَهُهُ، فَجَمِيعُ الْأَشْيَاءِ مَخْلُوقَةٌ لَهُ، مَمْلُوكَةٌ عَبِيدٌ لَهُ. فَأَمَرَ الْمُسْتَعِيذَ أَنْ يَتَعَوَّذَ بِالْمُتَّصِفِ بِهذِهِ الصِّفَاتِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ، وَهُوَ الشَّيْطَانُ الْمُوَكَّلُ بِالْإِنْسَانِ. فَإِنَّهُ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَلَهُ قَرِينٌ يُزَيِّنُ لَهُ الْفَوَاحِشَ، وَلَا يَأْلُوهُ جُهْدًا فِي الْخَبَالِ. وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 539)۔ یعنی، ربوبیت، مالکیت، اور الوہیت، اللہ تعالیٰ کی صفتوں میں سے تین صفتیں ہیں۔ پس وہی ہر چیز کا رب اور مالک اور الہ ہے۔ ہر چیز کا وہی خالق ہے سب اس کے مملوک اور اسی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader