الٰہ
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
بندے ہیں۔ پس حکم دیا کہ جو ان صفات سے متصف ہستی ہے اسی سے پناہ چاہنے والا شیطان کے مقابلے میں پناہ مانگے۔ کیوں کہ ہر آدمی کے ساتھ ایک قرین لگا ہوا ہے جو برائیوں کو اس کی نگاہ میں مزین کرتا رہتا ہے اور اس کو تباہ کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا۔ اور محفوظ وہی رہ سکتا ہے جس کو اللہ محفوظ رکھے۔ چوتھی آیت جو مصنف کے نزدیک تمام آیتوں میں سب سے زیادہ صریح ہے، وہ یہ ہے: يَوْمَ هُمْ بَارِزُونَ لَا يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (16: 40)۔ یعنی، (خدا اپنے رسول بھیجتا ہے تا کہ وہ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرائے) جس دن لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ ان کی کوئی بات خدا سے مخفی نہ رہے گی۔ کس کی حکومت ہے اس دن۔ صرف اللہ کی جو یکتا اور غالب ہے۔ اس آیت میں بھی ’’سیاسی اور تمدنی حکمرانی‘‘ کا براہ راست کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس آیت کا مطلب صرف یہ ہے کہ خدا کے مقابلے میں سب کے سب عاجز اور بے بس ہیں۔ ہر چیز دنیا میں چھپی ہوئی ہے، مگر آخرت میں بالکل نمایاں ہو جائے گی۔ اس کی تشریح میں علامہ آلوسی نے جو الفاظ لکھے ہیں، وہ یہ ہیں: إنما اختُصَّ المُلكُ بِه تعالى لأنَّه وحدَه يَقدِرُ على مُجازاةِ كُلِّ نَفْسٍ بما كَسَبَتْ، ولهُ العدلُ التَّامُّ فلا يَظلِمُ أحَدًا، ولهُ التَّصَرُّفُ فلا يُشغِلُه شأنٌ عن شأنٍ، فيُسرِعُ الحِسابَ (تفسير روح المعانی ، جلد 12 ، صفحہ 312)۔ یعنی، اقتدار کو اللہ تعالیٰ کے لیے اس واسطے خاص کیا کیوں کہ وہی یہ قدرت رکھتا ہے کہ ہر ایک کے کیے کا اسے بدلہ دے اور اسی کا انصاف مکمل انصاف ہے۔ پس وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور وہی متصرف ہے۔ اس کو ایک کام دوسرے کام سے نہیں روكتا اور وہ جلد حساب کرنے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader