الٰہ
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
اوپ کے تجزیہ سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ الہ کا لفظ دراصل اس ہستی کے لیے ہے جو انسان کے اشتیاق اور احتیاج کے جذبات کا مرکز ہو۔ یہ مفہوم یقیناً تقاضا کرتا ہے کہ اسی کو صحیح معنوں میں الہ سمجھا جائے جو اقتدار کا مالک ہو۔ مگر یہ اقتدار اصلاً فوق الفطری معنوں میں ہے۔ کیوں کہ جن توقعات کی بنا پر آدمی کسی کو الہ بناتا ہے ان توقعات کو پورا کرنے کے لیے فوق الفطری اقتدار ہی کی ضرورت ہے اس کا قانونی اور سیاسی اقتدار سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ البتہ جیسا کہ آگے آ رہا ہے، اس اتخاذِ الہ کے بہت سے تقاضے ہیں جو الہ بنانے والے کے اپنے حالات کی نسبت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس میں لازمی طور پر یہ تقاضا بھی شامل ہے کہ جو لوگ خدا پر ایمان لائیں وہ اپنے اجتماعی امور کو خدا کی مرضی کے مطابق بنائیں اور اپنے کسی معاملہ میں اس سے بغاوت کا رویہ اختیار نہ کریں۔ رب اس کے بعد ”رب“ کی اصطلاح ہے۔ لغت کی حد تک اس کتاب میں اس کی بالکل صحیح تشریح کی گئی ہے۔ مگر اس کے آگے جب قرآن کا تصورِ رب متعین کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی چلتے چلتے پٹری سے اتر گئی۔ اس کو پڑھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذہن اس کو اپنے مخصوص سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ اب چونکہ اصل قرآنی مفہوم میں اس کی گنجائش نہیں تھی، اس لیے یہاں بھی کچھ ویسی ہی صورت بن گئی، جس کی مثال الہ کے باب میں ہم اوپر لکھ چکے ہیں۔ بحث کا آغاز ان سطروں سے ہوتا ہے : ”اس لفظ کا مادہ ”رب“ ہے جس کا ابتدائی و اساسی مفہوم پرورش ہے۔ پھر اسی سے تصرف، خبر گیری، اصلاحِ حال، اور اتمام و تکمیل کا مفہوم پیدا ہو۔ پھر اسی بنیاد پر فوقیت، سیادت، مالکیت اور آقائی کے مفہومات اس میں پیدا ہو گئے۔“ یہاں تک بات بالکل صحیح ہے۔ کیوں کہ رَب یَرُب کا اصل مفہوم پرورش ہے اسی لیے رب کا ترجمہ ”پروردگار“ کیا جاتا ہے۔ مگر جس طرح ہر لفظ میں ایسا ہوتا ہے کہ اصل مفہوم کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader