الٰہ
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
تقاضے کے تحت بہت سے معانی پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح لفظ رب اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے جن جن پہلوؤں کا تقاضا کرتا ہے، وہ سب اس میں شامل ہوتے چلے گئے ہیں۔ اس لفظ کا حقیقی مفہوم تو ایک ہی ہے، مگر اس کے استعمالی مفہوم بہت سے بن گئے ہیں۔ مگر ”رب“ کی اس تشریح میں زیر بحث ذہن کو تسکین نہیں ملی۔ کیوں کہ اس طرح سیادت اور حکمرانی کا تصور محض اس کا ایک ایسا تقاضا بن رہا تھا جو لفظ کے اصل مفہوم میں شامل نہیں ہے۔ جب کہ یہ ذہن اس تصور کو اس کا براہ راست مفہوم ثابت کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ ایک صفحہ کے بعد بات بدل گئی۔ جو چیز پہلے رب کا ”اساسی مفہوم“ تھی، وہ اس کا صرف ایک ”مفہوم“ قرار پائی۔ لکھتے ہیں: ”غلطی سے رب کے مفہوم کو محض پروردگار کے مفہوم تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے اور ربوبیت کی تعریف میں یہ فقره چل پڑا ہے که ”هو انشاء الشيء حالًا فحَالًا إلى حد التَّمام“ (ایک چیز کو درجہ بدرجه ترقی دے کر پایه کمال کو پہنچانا)۔ حالانکہ یہ اس لفظ کے وسیع معانی میں سے صرف ایک معنی ہے۔ اس کی پوری وسعتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے که یه لفظ حسب ذیل مفہومات پر حاوی ہے: 1۔ پرورش کرنے والا، ضروریات بہم پہنچانے والا، تربیت اور نشوونما دینے والا۔ 2۔ کفیل، خبر گیرای، دیکھ بھال اور اصلاحِ حال کا ذمہ دار۔ 3۔ وہ جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو، جس پر متفرق اشخاص مجتمع ہوتے ہوں۔ 4۔ سیدِ مُطاع، سردارِ ذی اقتدار، جس کا حکم چلے، جس کی فوقیت و بالادستی تسلیم کی جائے، جس کو تصرف کے اختیارات ہوں۔ ”رب“ سامی زبانوں کا ایک کثیر الاستعمال مادہ ہے۔ عبرانی، سریانی اور عربی تینوں زبانوں میں اس کے معنی پالنے کے ہیں۔ پھر چونکہ معلم، استاد اور آقا کسی نہ کسی اعتبار سے پرورش کرنے والے ہی ہوتے ہیں، اس لیے اس کا اطلاق ان معنوں میں بھی ہونے لگا۔ چنانچہ عبرانی اور آرامی کا ”ربی“ اور ”رباہ“ ”پرورش کننده، معلم اور آقا تینوں معنی رکھتا تھا۔ (ترجمان القرآن از مولانا ابوالکلام آزاد، جلد 1، صفحه 35)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader