تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مواقع بھی مجھے حاصل تھے، چنانچہ میں نے اپنی ذہنی کشمکش کے سلسلے میں تحریک کے اوپر کے افراد اور مرکزی شخصیتوں سے تبادلہ خیال شروع کیا، مگر طویل مدت کے غور وفکر اور بحث و گفتگو کے بعد بالآخر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس فکر کی طرف سے زبانی یا تحریری طور پر اب تک جتنے بھی دلائل دیے گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی کم از کم میرے علم وفہم کی حد تک ان سوالات کو رفع نہیں کرتا جس نے مجھے موجودہ حالت تک پہنچایا ہے۔ پہلا مرحلہ یہ باتیں کیوں میرے لیے غیر تسلی بخش ثابت ہوئیں، اس کا اندازہ آپ باآسانی کر سکیں گے اگر میں ان میں سے بعض کا یہاں مختصر ذکر کر دوں۔ 1۔ اس سلسلے میں میری گفتگو کا آغاز 1959ء میں ایک مرکزی شخصیت سے ہوا جو جماعت میں اوپر کے محدود ترین افراد میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں، ان سے عرصہ دراز تک باتیں ہوتی رہیں مگر وہ کوئی فیصلہ کن بات مجھے نہ بتا سکے، انھیں خود بھی بہت سے معاملات میں جماعت سے شکایت تھی مگر میری فکری الجھن کو دور کرنے میں انہوں نے میری کوئی خاص رہنمائی نہیں کی، ایک بار میں ”اظہار دین“ والی آیت کے بارے میں ان سے گفتگو کر رہا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اس سے رسول کا اور رسول کی تبعیت میں امت مسلمہ کا نصب العین اخذ کرتے ہیں۔ اگر فی الواقع اس آیت میں وہ مخصوص مشن بتایا گیا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلسلہ وحی ورسالت جاری کیا تھا تو یہ الفاظ قرآن میں صرف آخری رسول کا مشن بتانے کے لیے کیوں ملتے ہیں۔ دیگر انبیاء کے مقصد بعثت کو ظاہر کرنے کے لیے بھی قرآن میں اس قسم کے الفاظ کیوں نہیں ہیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ”ممکن ہے آخری رسول کے بعد مقصد رسالت بدل کر اظہار دین کر دیا گیا ہو“ او كما قال۔ 2۔ ایک اور بزرگ جو جماعت میں انتہائی چوٹی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان سے بار بار گفتگو ہوئی مگر وہ ہمیشہ مجھ کو یہی سمجھاتے رہے کہ تم جو کچھ سوچ رہے ہو اس میں اور جماعت کی فکر میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، دونوں تقریباً ایک ہی ہیں۔ یہ گفتگوئیں جون 1960ء سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader