Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

5۔ مالک، آقا۔“ (صفحات 29-28) یہ ”رب“ کی تشریح میں اس کتاب کے پہلے انحراف کی مثال تھی، جس کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رب کا سیاسی مفہوم محض اس کا ایک عملی تقاضا نہیں، بلکہ وہ لفظ کے متعدد براہِ راست مفہومات میں سے ایک براہِ راست مفہوم ہے۔ اور بعینہ وہی حیثیت رکھتا ہے جو اس کے دوسرے کسی مفہوم کی حیثیت ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں کتاب کے اندر نہایت تفصیل سے قرآن میں مذکور اقوام کی گمراہی کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس کے بعد سب کے بارے میں مشترک نتیجہ تحقیق کو ”قرآن کی دعوت“ کے عنوان سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ” گمراہ قوموں کے تخیلات کی یہ تحقیق جو پچھلے صفحات میں کی گئی ہے، اس حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دیتی ہے کہ قدیم ترین زمانہ سے لے کر زمانہ نزولِ قرآن تک جتنی قوموں کا ذکر قرآن نے ظالم، فاسد العقیدہ اور بد راہ ہونے کی حیثیت سے کیا ہے، ان میں سے کوئی بھی خدا کی ہستی کی منکر نہ تھی، نہ کسی کو اللہ کے مطلقاً رب اور الٰہ ہونے سے انکار تھا، البتہ ان سب کی اصل گمراہی اور مشترک گمراہی یہ تھی کہ انھوں نے ربوبیت کے ان پانچ مفہومات کو جو ہم ابتداء میں لغت اور قرآن کی شہادتوں سے متعین کر چکے ہیں، دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ رب کا یہ مفہوم کہ وہ فوق الفطری طور پر مخلوقات کی پرورش، خبرگیری، حاجت روائی اور نگہبانی کا کفیل ہوتا ہے، ان کی نگاہ میں ایک الگ نوعیت رکھتا تھا۔ اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ اگر چہ رب اعلیٰ تو اللہ ہی کو مانتے تھے مگر اس کے ساتھ فرشتوں اور دیوتاؤں کو، جنوں اور غیر مرئی قوتوں کو، ستاروں اور سیاروں کو، انبیاء اور اولیاء اور روحانی پیشواؤں کو بھی ربوبیت میں شریک ٹھہراتے تھے۔ اور رب کا یہ مفہوم کہ وہ امر و نہی کا مختار، اقتدار اعلیٰ کا مالک، ہدایت و رہنمائی کا منبع،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page